مشرف مارشل لاء کے بعد کراچی جیل میں بند نواز شریف کو وہ موبائل فون کس جانثار ساتھی نے فراہم کیا تھا جس کے ذریعے میاں صاحب نے اپنے دوستوں سے رابطے کیے تھے ؟ دنگ کر ڈالنے والے حقائق سامنے آ گئے

loading...

اسلام آباد (ویب ڈیسک )سینٹ کے چیف وہپ اور سابق صوبائی وزیر قانون سینیٹر سلیم ضیاء نے کراچی کی جیل میں قید کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف کو موبائل فون پہنچانے کا انکشاف کیا ہے،انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس موبائل کے ذریعے سابق وزیر اعظم بیرون ملک خصوصا عربی اور اندرون ملک دوستوں سے رابطے میں رہے۔

ایک نیوز ایجنسی کو انٹرویو کے دوران سلیم ضیاء کا کہنا تھا نواز شریف کو مقدمات کے ذریعے سیاسی طور پر شکست دینا ناممکن ہے ، جو یہ سمجھتے ہیں وہ انہیں نہیں جانتے۔ میں انہیں کڑے وقت سے جانتا ہو ں ، میں اسوقت کے پی آئی اے کے چیئرمین شاہد خاقان عباسی کے ہمراہ حیدر آباد سے کراچی جارہا تھا جب مجھے کسی دوست نے ٹیلی فون پربتایا کہ سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے میاں نواز شریف کو گرفتار کر کے مارشل لاء لگا دیا جس پر مجھے یقین نہ آیالیکن جیسے پی آئی اے ہیڈ کوارٹر پہنچا تو وہاں ماحول بڑا رنجیدہ اور سنجیدہ تھا۔ پی ٹی وی پر یہ خبر چل رہی تھی کہ نواز شریف کو وزارت عظمی سے معزول کر دیا گیا ہے، جنرل پرویز مشرف تھوڑی دیر میں قوم سے خطاب کرنیوالے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے پی آئی اے کے اپنے سٹاف اور افسران کو بلا کر کہا کہ میں آج سے ہی مستعفی ہو رہا ہوں کیونکہ جس لیڈر نے مجھے چیئرمین پی آئی اے لگایا تھا اسے گرفتار کر لیا گیا ہے اسلئے میں یہاں مزید کام نہیں کروں گا، پی آئی اے میں آج میرا آخری دن ہو گا، 5 گھنٹے تک پریشانی میں دفتر میں بیٹھے رہے۔سلیم ضیاء نے کہاہمارے ساتھ پی آئی اے کے ڈائریکٹر کیٹرنگ اور ڈائریکٹر انفارمیشن بھی موجود تھے۔

ان میں سے ایک بھوک کے معاملے میں بہت کمزر تھا۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آگے چل کر معاملہ کیا بنتا ہے۔ اس لیے پرویز مشرف کی تقریر کے چکر میں ان دوستوں کو بھوکا نہ ماریں۔کھانا ہم نے بہت پہلے کھایا تھا چنانچہ شاہد خاقان عباسی کی سرکاری اینکسی میں بیٹھے تو فوری کھانے کا آرڈر دیا۔ جیسے کھانا آیا ہی تھا کہ ایک ملائیشیا کلر کی وردی میں نوجوان فوجی کیپٹن دستک دینے کے بعد اندر آکر انتہائی مودب انداز میں کہنے لگاکہ مجھے اندر کا جائزہ لینا ہے، اسکے جائزہ لیتے ہی مزید 10نوجوان فوجی گنیں تانے اندر آگئے، کیپٹن نے ہم سب کا تعارف حاصل کرنے کے بعد ٹیلیفون پر کسی افسر کو ہماری موجودگی بارے بتانے کے بعد شاہد خاقان عباسی سے دفتر لائی جانیوالی فائلیں اپنی تحویل میں لیں اور ہمیں اپنے ساتھ ملیر کینٹ چلنے کے لیے کہا جس پر شاہد خاقان نے کہا کہ یہ لوگ میرے مہمان ہیں انہیں جانے دیں، میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔ یہ سنتے ہی پی آئی اے کے ایک افسر جو کہ انتہائی بزدل تھا ،فوجی افسر کا جواب آنے سے پہلے ہی یہ کہ کراٹھ کھڑا ہوا کہ میں چلتا ہوں جس پر کپٹن نے کہا کہ اوپر سب کا بتا چکا ہوں سب کو میرے ساتھ چلنا ہوگا۔ گھر سے باہر نکلے تو دیکھا کہ باہر آرمی کی کافی نفری موجود تھی،

25 گاڑیوں کے حصار میں ہمیں ملیر کینٹ پہنچایا گیا راستے میں پی آئی اے کا مذکورہ افسر کہنے لگا کہ آج تو مروا دیا ہے اب ہمارے ساتھ پتہ نہیں کیا ہو گا، میں اسے آنکھوں سے اشارہ کر کے اور اس کے پاؤں پر پاؤں مار رکروکنے کی کوشش کی لیکن وہ چپ نہ ہوا، ملیر کینٹ پہنچتے ہی ہماری کھانے اور فروٹ سے تواضع کی گئی جس پر کچھ پریشر کم ہوا اور تواضع کا مطلب ہم نے یہ لیا کہ کوئی بڑی پریشانی نہیں۔ اسی اثناء میں فوجی سنتری نے کہا کہ آپ میں سلیم ضیاء کو کرنل صاحب بلا رہے ہیں، کرنل کے پاس پیش کیا گیا تو اس نے کہا کہ آپ وہاں کیا کررہے تھے؟ میں نے کہا کہ میراتعلق مری سے ہے ،شاہد خاقان عباسی میرا دوست ہے ، پہلے بھی اکثر ان کے دفتر آتا رہتا ہوں جس پر اس نے کہا کہ تم غلط وقت پر غلط جگہ موجود تھے۔سلیم ضیاء نے کہاکہ میں نے کہا کہ مجھے تو صورتحال کا علم نہیں تھا اس وقت رات کے تین بج رہے تھے۔ اس نے کہا کہ آپ کو آپ کے گھر چھوڑ دیتے160 ہیں لیکن آپ نے صبح آٹھ بجے کور کمانڈر کراچی ل مظفر عثمانی کے دفتر پہنچ جانا ہے۔

اگلے دن ٹھیک آٹھ بجے کور کمانڈر کراچی کے دفتر پہنچ گیا۔ وہاں رات 8بجے تک مجھے ویٹنگ روم میں بٹھایا گیا اور اگلے دن پھر صبح 8بجے آنے کا کہا گیا یہ سلسلہ 10 دن تک صبح 8سے رات8 بجے کور کمانڈر جنرل مظفر عثمانی کے انتظار میں بیٹھنے کا چلتا رہا۔دسویں روز میں نے کہا کہ کور کمانڈر صاحب تک میرا پیغام پہنچائیں کہ اب یا تو روزانہ حاضری کا سلسلہ ختم کریں یا مجھے بھی میرے دیگر گرفتار دوستوں کے پاس پہنچا دیں۔ پیغام کے جواب میں کور کمانڈر نے ملاقات کر کے کہا کہ تم جاسکتے ہو لیکن آئندہ جب بھی تمہاری ضرورت ہوئی تو تم نے آجانا ہے۔ اس طرح دس روز حاضری کا سلسلہ ختم ہوا۔ اس کے بعد جدوجہد کا دوسرا سلسلہ شروع ہوا میاں صاحب کو گرفتاری کے بعد جس مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا وہاں میں پہلے ہی پہنچ چکا تھا اور میاں صاحب کو چنے اور ٹافیاں پیش کیں جنہیں میاں صاحب نے یہ کہہ کر قبول کیا کہ یہ خشک چنے جو مجھے خوراک دی جارہی ہے اس سے کئی درجہ بہتر ہیں۔سلیم ضیاء نے کہاکہ میاں صاحب نے کراچی جیل میں ملاقات کے دوران مجھے موبائل فون پہنچانے کا کہا جو بظاہر اتنی سکیورٹی کے دوران جیل میں پہنچانا ناممکن لگتا تھا۔

جیل میں ہماری ملاقات جیل سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں ہوتی تھی اس وقت کے جیل سپرنٹنڈنٹ نصرت علی منگن بہت ہی شفیق انسان تھے انہوں نے یہ حکم دیا ہوا تھا کہ میاں صاحب سے ملاقات کیلئے کوئی بھی ملنے آئے تو اسے ملاقات کرنے دی جائے ،میں نے دبئی سے ایک دوست سے انتہائی چھوٹا سیٹ اپنی پینٹ کے بیلٹ کے اندر چھپا کر جیل میں ملاقات کے دوران میاں صاحب کے پاس لے گیا اور واش روم میں سیٹ کے پیچھے رکھ کر میاں صاحب کو بتادیا کہ وہاں سے لے لیں، انہوں نے موبائل وہاں سے حاصل کرنے کے بعد اپنے پاکستان میں دوستوں اور سعودی عرب ،دبئی میں اپنے عالمی دوستوں سے رابطہ شروع کیا اور مجھے جب انتہائی ضروری بات کرنی ہوتی تھی تو کال کرلیتے تھے اور یہ طے تھا کہ میں انہیں کال نہیں کروں گا۔ایک دن اتوار کی صبح سویرے میاں صاحب کی کال آئی کہ انہیں اٹک قلعہ منتقل کیا جارہا ہے اس لیے موبائل تم لے جاؤ ورنہ جامہ تلاشی کے دوران پکڑا جائیگا۔ میں نے کہا کہ آج چھٹی ہے اس لیے آپ جیل سپرنٹنڈنٹ سے کہیں کہ مجھے سلیم ضیاء کو کراچی میں جاری کیسز کے حوالے سے کچھ ہدایات دینی ہیں،

اس لیے میں اٹک اس وقت تک نہیں جاؤں گا ،جب تک مجھے میرے وکیل سلیم ضیاء سے ملاقات کرا نہیں دی جاتی۔میاں صاحب کے اصرار پر جیل سپرنٹنڈنٹ نے مجھے ملاقات کی اجازت دی تو میں نے جیسے موبائل پہنچایا تھا ویسے ہی اس کو لے کرواپس آنے میں کامیاب ہو گیا۔میاں صاحب کو جب وہاں سے اٹک کیلئے بھجواجارہاتھاتو جیل کا پورا عملہ وہاں اکٹھے ہو کر رو رہا تھا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ نصرت منگن نے مجھے کہا کہ تمہارا لیڈر بہت عظیم انسان ہے اس نے یہاں پر ساڑھے تین سو افراد کیلئے مسجد تعمیر کروائی ہے ،ان کا کہنا تھا کہ میاں صاحب چودہ مہینے کراچی جیل میں دو ماہ اٹک جیل میں قید رہے ،کراچی میں قید کے دوران موبائل ان کے زیر استعمال رہا جس سے وہ اندر رہ کربھی باہر کے دوستوں سے رابطے میں رہے۔ کراچی قیام کے دوران ایک انڈیا سے آئے ہوئے پیر صاحب سے جب دعا کیلئے ملا تو انہوں نے مجھے کہا کہ نواز شریف کیلئے بہتر ہے کہ وہ ملک سے باہر چلے جائیں اور یہی ملک و قوم کے مفاد میں ہے،اس پر میں نے کہا کہ وہ تو قید ہیں کیسے ملک سے باہر چلے جائیں اس پر پیر صاحب کا کہنا تھا کہ آپ میرا پیغام ان کو پہنچادیں۔ چنانچہ میں نے یہ پیغام میں میاں صاحب کو پہنچایا تھا۔

سلیم ضیاء نے کہاکہ میاں صاحب پیری فقیری پر کافی یقین رکھتے ہیں اور اولیا سے بہت عقیدت رکھتے ہیں۔کراچی قیام کے دوران اعجاز شفیع اور اٹک قلعے میں قید کے دوران آفتاب شیخ کے گھر سے کھانا جاتا تھا۔میاں نواز شریف ،میاں شہباز شریف ،اعجاز شفیع، غوث علی شاہ، سعیدمہدی، مشاہد اللہ ،شاہد خاقان عباسی اور رانا مقبول نے اس دوران بہت مضبوطی سے قید گزاری اور حالات کا جواں مردی سے مقابلہ کیا۔صرف سیف الرحمن ڈھیلا پڑ گیا تھا اور روتا پیٹتا تھا۔بیگم کلثوم نواز ،مریم نواز اور ان دونوں بھائیوں(نواز شریف، شہباز شریف) کے حوصلے نے مجھے حیران کیا۔ دوسری صورتحال اتنی خراب کہ سندھ اسمبلی کے21ن لیگی ممبران میں سے صرف میں ایک اکیلا ن لیگ میں رہ گیا تھا باقی سب چھوڑ گئے جبکہ قومی اسمبلی کے 10 رکن ن لیگ کے تھے جن میں صرف غوث علی شاہ اور اعجاز شفیع رہ گئے تھے حتی کہ ہمارے وزیراعلیٰ لیاقت علی جتوئی بھی ق لیگ جوائن کر گئے۔لیاقت علی جتوئی کے کچھ،، مسائل،، تھے۔ جس کی وجہ سے اسے ق لیگ کو جائن کرنا پڑا۔ دوستوں کی بے وفائی بھی نواز شریف کے عزم کو کمزور نہیں کر سکی۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ نواز شریف کمزور اعصاب کا مالک ہے

انہیں نواز شریف کی ہمت اور جرات کا اندازہ ہی نہیں نواز شریف کو تین جرنیلوں ،جنرل عزیز، جنرل محمود وغیرہ نے اسمبلی توڑنے اور استعفیٰ دینے کیلئے بہت دباؤ ڈالا لیکن انہوں نے اس ذلت کی بجائے جواں مردی سے ڈٹ جانے کو ترجیح دی۔ اب بھی نواز شریف حالات کا بھرپور مقابلہ کریں گے اور اگلے الیکشن میں ن لیگ ،پی ٹی آئی اور پی پی کا مکمل صفایا کر دے گی شہباز شریف بہترین لیڈ در ثابت ہوں گے۔ایک سوال کے جواب میں سلیم ضیاء کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف نے کبھی بھی اٹک قلعے میں بچھو چھوڑنے، سر کے اوپر بلب لگانے سمیت کوئی شکایت بھی زبان پر نہیں لائی ،غوث علی شاہ نے سندھ میں بہت کام کیا ہے لیکن بد قسمتی سے ممنون حسین کے صدر بننے کو وہ اپنے دل پر لے گئے، انہیں منانے کیلئے خواجہ سعد رفیق، رانا مشہود، اقبال ظفر جھگڑا اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بہت کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ہو سکی یہ سچ ہے کہ شریف فیملی میں سے کوئی فرد انہیں منانے کیلئے کراچی نہیں گیا۔میاں نواز شریف کے کہنے پر مشاہد حسین سید کو رہائی پر ملاقات کیلئے مشاہد اللہ اور میں گئے تو ہمیں اٹھا لیا گیا بعد ازاں کافی دن بعد ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کسی کے ان کے پیچھے نہ آنے کی شکایت کی۔ (بشکریہ ڈیلی پاکستان

loading...
اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
صحت اورتندرستی
عجیب و غریب