عامر لیاقت کو پارٹی میں کیوں شامل کیا؟تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، عمران خان کے ساتھ ایسا کام ہوگیا کہ سوچا تک نہ ہوگا،شدید شرمندگی کاسامنا کرنا پڑ گیا

loading...

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) عامر لیاقت کی پی ٹی آئی میں شمولیت پر تحریک انصاف کے ناراض کارکنوں کی نعرے بازی عمران خان خطاب کیے بغیر تقریب ادھوری چھوڑ کر چلے گئے ۔نجی ٹی وی کے مطابق اتوار کو کراچی میں جب ایم کیو ایم کے سابق رہنما معروف ٹی وی اینکر عامر لیاقت حسین نے تحریک انصاف میں

شمولیت اختیار کی تو تقریب میں موجود پی ٹی آئی کے ناراض کارکنوں نے عامر لیاقت نامنظور کے نعرے بازی شروع کردی۔جس پر تقریب میں موجود تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو تقریب ادھوری چھوڑ کر جانا پڑا۔دریں اثناء پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہاہے کہ 2018ء کے انتخابات میں آصف زرداری اورنوازشریف کی پارٹنرشپ توڑدوں گا، یہ دونوں وکٹیں ایک ہی بال پرایک ساتھ گریں گی،کرپٹ سربراہ کی پارٹی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ یا انتخابی الائنس کیا تو کبھی اپنا چہرہ آئینہ میں نہیں دیکھ سکوں گا،بلاول بچہ اورملکی حالات سے ناواقف ہے اسکی باتوں کا کیا جواب دوں،بلاول بھٹو آپ کے والد ارب پتی بن گئے، کبھی ان سے پوچھا کہ دولت کہاں سے آئی ، تحریک انصاف پارلیمنٹ کومظبوط کرے گی ہمارا وزیراعظم نوازشریف جیسا نہیں بلکہ پارلیمنٹ کوجوابدہ ہوگا ، پاوراورپیسہ بنانے کے لیے حکومت میں آنے والے اس شہرصوبے اورملک کا نظام نہیں بدل سکتے کراچی سمیت پورے سندھ کو کرپشن نے تباہ کردیا ہے پیسہ لندن اوردبئی جارہا ہے کراچی والوں سے کہتا ہوں کہ وہ تحریک انصاف کو ایک چانس دیں،ہم کراچی تو کیا ملک کا

نظام بدل کردکھائیں گے، سینیٹ انتخابات میں پیسہ چلنے کا واویلا کرنے والوں نے ہی پیسے کا فائدہ اٹھایا۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔قبل ازیں کراچی پریس کلب آمد پر عمران خان کا کراچی پریس کلب کے صدراحمد خان ملک اورسیکریٹری مقصود یوسفی نے خیرمقدم کیا۔ میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کراچی پریس کلب کا میٹ دی پریس میں مدعو کرنے پر شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہاکہ میں کراچی اس لئے آرہا ہوں کہ کراچی والے اس پارٹی کو ایک موقع دیں جسے کبھی انہوں نے موقع نہیں دیا۔ا نہوں نے کہاکہ کراچی والوں نے جن پارٹیوں کو موقع دیا ان کی کارگردگی اورنتائج سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہاکہ کراچی سے متعلق چیف جسٹس کے ریمارکس بتارہے ہیں کہ کراچی میں عوام سیوریج کی پیداوار کھا رہے ہیں۔ کراچی میں تبدیلی کی ضرورت ہے اس شہر کے لیے ایک منفرد لوکل گورنمنٹ سسٹم چاہیئے۔ سب سے بہترین بلدیاتی نظام خیبر پختونخواہ میں ہے مگراس نظام کوباقی صوبے اس لیے نہیں اپنائیں گے کہ وہاں کی حکومتوں کی اجارہ داری خطرے میں پڑجائے گی۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں 30سال سے راج کرنے والی سیاسی جماعتیں

کراچی کے لوگوں کی قسمت تبدیل کرنے میں ناکام رہیں۔ کراچی کو اب ایک نئے بلدیاتی نظام کی ضرورت ہے۔ کراچی کوکرپشن نے تباہ کردیا ہے۔ کرپشن کا پیسہ دبئی اورلندن جارہا ہے۔ مئیرکراچی کا براہ راست انتخاب ہونا چاہیے ۔حکومت سندھ کا موجودہ طریقہ کار اوربلدیاتی نظام کبھی بھی کراچی کا مسئلہ حل نہیں کر سکتا۔ لندن میں بیٹھ کر حکومت کرنے والوں نے کراچی کا بیڑا غرق کردیا۔ تحریک انصاف کوچانس ملا تو ہم کراچی کے بنیادی مسائل اور پولیس نظام کوتبدیل کرکے دکھائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ کراچی پولیس کی بدنظمی کی وجہ سے شہر میں آج رینجرز تعینات ہے،پولیس ایکٹ میں ترمیم کے بعد آج سب سے زیادہ امن کے پی کے میں ہے،اسی امن کی وجہ سے آج کے پی کے میں نواز شریف اور اسفند یار بھی تقریر کر سکتا ہے۔ یہ لوگ پولیس کے نظام کو تبدیل نہیں کرینگے کیونکہ پولیس کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اندرون سندھ سے جیت کرآنے والوں کا کراچی سے کوئی مفاد نہیں ہے۔ جو پارٹی کراچی میں آتی ہے اس کی بنیاد کراچی میں نہیں ہے۔ ایک سیاسی جماعت کا لیڈر لندن میں بیٹھ کر حکومت کرتا رہا۔ عمران خان نے کہاکہ دس سال سے حکومت میں رہنے والوں نے

سندھ میں کرپشن کر کے اسے تباہ کردیا۔ انہوں نے کہاکہ پاوراورپیسہ بنانے کے لیے آنے والے ملک کا نظام نہیں بدل سکتے۔اندرون سندھ سے جیتنے والوں کا کراچی میں کوئی مفاد نہیں ہے۔ آصف زرداری اورنوازشریف نے ملکی تباہی کے ذمہ دارہیں ان کی وجہ سے آج پاکستان ملکی تاریخ میں بدترین مقروض ملک بن چکا ہے۔ آج ہر پاکستانی 1 لاکھ 30ہزار کا مقروض ہے،قوم مقروض ہوتی گئی ہے اور یہ شاہی خاندان مزید امیر ہوگئے۔انہوں نے کہاکہ زرداری اور نوازشریف دونوں کی وکٹیں 2018 کے الیکشن میں ایک ساتھ گرینگی۔ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ بلاول ابھی بچہ ہے اس کی باتوں کا جواب نہیں دے سکتا۔ جوملکی حالات کا ادراک نہیں رکھتا اسے کیا جواب دوں۔ جوملک میں پیدل ایک کلومیٹرنہیں گھوم سکتا اورملک کے حالات سے ناواقف ہے اس کی باتوں کا کیا جواب دوں۔سینیٹ میں پیپلزپارٹی کوسپورٹ کرنے سے متعلق عمران خان نے کہا کہ سینیٹ میں پاکستان کی فتح ہوئی ہے جوبلوچستان کے لیے نیک شگون ہے۔ بلوچستان سے سینیٹر لانا ہماری جیت ہے۔ اس سے بلوچستان کے لوگوں کو کم از کم ایک پیغام تو جائے گا کہ بلوچستان کے لوگ بھی مرکز میں آئیں گے اور حکومت کا

حصہ بنیں گے۔ مجھے بڑی دیر کے بعد پاکستانی سیاست سے خوشی ہوئی۔ دوسری چیز نواز شریف کا سینیٹ کا چیئرمین نہیں بن سکا۔ یہ پاکستان تحریک انصاف کی جیت تھی۔ نواز شریف کا بڑا ایجنڈہ یہ ہے کہ عدلیہ ، پاکستان اور ادارے تباہ ہوجائیں۔ کسی طرح ان کے اربوں روپے کی کرپشن بچ جائے۔ہمیں خطرہ تھا کہ یہ اپنے مفاد میں کوئی قانون پاس نہ کروالیں۔ ہمیں اس لیے خوشی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں جو کہتا تھا کہ ہماری سیاسی لیڈر شپ نے ہماری پارلیمنٹ کو کمتر کیا ہوا ہے۔ میں کہتا تھا کہ پیسے سے سینیٹر بنتے ہیں۔ سینیٹ نے اس کا نوٹس لیا اور مجھے سینیٹ میں برا بھلا کہا گیا۔ اب خدا کا کرم ہے کہ حاصل بزنجو سینیٹ میں کھڑے ہو کہتے ہیں کہ منڈی لگی ہوئی ہے۔ نواز شریف اور فضل الرحمن نے کہا کہ ہارس ٹریڈنگ ہوئی ہے۔ نواز شریف اس کا موجد ہے۔ فضل الرحمن ہارس ٹریڈنگ کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے ہیں۔ اب ان کے منہ سے باتیں نکل رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حاصل بزنجو نے سینیٹ میں جوتقریرکی ہے وہ نوشتہ دیوارہے۔چھانگا مانگا کی سیاست کا خالق نوازشریف بھی کہتا ہے کہ سینیٹ میں پیسہ چلا ہے۔ فضل الرحمن بھی سینیٹ میں پیسے کی بات کررہا ہے حالانکہ سینیٹ میں پیسہ چلنے کا سب سے زیادہ فائدہ فضل الرحمن نے اٹھایا۔عمران خان نے کہاکہ نوازشریف کا چیئرمین اس لیے نہیں بننے دیا کہ وہ جیت کر

اپنے حق میں قانون سازی کرتا۔ انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف پارلیمنٹ کومظبوط کرے گی ہمارا وزیراعظم نوازشریف جیسا نہیں بلکہ پارلیمنٹ کوجوابدہ ہوگا ، تحریک انصاف اپنے وزیراعظم کوپابند کرے گی کہ وہ ہرہفتے اسمبلی فلورپرپارلیمنٹ کوجوابدہ ہو۔ آئندہ انتخابات میں پیپلزپارٹی سے انتخابی الائنس اورمشترکہ حکومت سازی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ کرپٹ سربراہ کی پارٹی سے الائنس کرپشن کوسپورٹ کرنے کے مترادف ہوا ۔اگریہی کرنا ہوتا تو 22سال جدوجہد نہ کرتا۔ آئندہ انتخابات میں زرداری کے ساتھ اتحاد کرنا پڑے یا حکومت سازی کے لیے زرداری کواپنے ساتھ ملانا پڑا تو میں اپنی شکل آئینہ میں کبھی نہیں دیکھ سکوں گا۔ عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف کے خیبر پختونخواہ کے تجربے سے ہم نے یہ سیکھا ہے کہ ہماری پارٹی میں کوئی بھی لوگ آکر شامل ہوسکتے ہیں۔ جو لوگ پارٹی میں آتے ہیں، انہیں پارٹی کا منشور ماننا پڑتا ہے۔ سیاسی اتحاد میں یہ نہیں ہوتا کیونکہ وہ پارٹی کے ماتحت نہیں ہوتے۔ جو بھی پارٹی کا منشور مانتا ہے وہ پارٹی میں آئے گا۔ جب آپ اتحاد کریں گے تو کرپٹ لیڈر کی پارٹی سے اتحاد نہیں کرناچاہئے۔ اس سے آپ کا منشور خطرے میں پڑ جاتا ہے۔قبل ازیں کراچی ائیرپورٹ پرصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خا ن نے کہاکہ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے

کراچی کی گندگی اٹھانے کیلئے ایک ہفتے کا وقت دیا ہے، بلاول سے پوچھنا چاہتا ہوں 10 سال میں کراچی میں کوئی چیز ٹھیک کی ہے؟وہ بتائیں کہ سندھ میں کیا تبدیلی لائی گئی۔انہو ں نے کہا کہ کراچی میں پینے کے پانی میں سیوریج کا پانی ملا ہوا ہے، چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کراچی کی گندگی اٹھانے کیلئے ایک ہفتے کا وقت دیا ہے ۔عمران خان نے مزید کہا کہ بلاول بڑے بڑے بیانات دیتے ہیں، آپ کی حکومت سندھ میں پینے کا صاف پانی نہیں دے سکی۔ کراچی کے لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری نہیں کی گئیں ۔

loading...
اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
صحت اورتندرستی
عجیب و غریب