جنرل قمر جاویدباجوہ نےفوری طور پر ایک ساتھ تمام سینیٹرز کو طلب کر لیا پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسے اختیارات کا استعمال کہ اب سینیٹرز بھی آرمی چیف کی طلبی پر حاضری دینگے، جان کر آپ کو بھی یقین نہیں آئیگا

loading...

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سینیٹ کی ہول کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ آرمی چیف نے سینیٹ کی تمام کمیٹیوں کا اجلاس منگل کے روز صبح 10 بجے طلب کر لیا ہے۔ آرمی چیف ملک کی سیکورٹی صورتحال اور اپنے غیر ملکی دوروں بارے سینیٹ کو آگاہ کریں گے۔ آرمی چیف علاقائیاور عالمی صورتحال پر بھی بریفنگ دیں گے۔واضح رہے کہ اس سے قبل چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سینٹ کی ہول کمیٹی کو بریفنگ دینے کیلئے پارلیمنٹ ہائوس آچکے ہیں۔ اس سے قبل آرمی چیف چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سینٹ کی ہو ل کمیٹی کو بریفنگ دینے کے لئے ہیلی کاپٹر کی ذریعے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے تھے ۔اس وقت کے ڈپٹی چیئرمین سینٹ عبدالغفور حیدری نے ان کااستقبال کیا تھا۔آرمی چیف کے ہمراہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور سمیت ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی ایم او بھی تھے جس کے بعد آرمی چیف کواس وقت کے چیئرمین سینٹ رضاربانی کے چیمبر میں لے جایا گیاتھا جہاں پر چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی اور قائد ایوان راجہ ظفر الحق سمیت اپوزیشن لیڈر سینٹ اعتزاز احسن نے ان کو خوش آمدید کہا

بعد ازاں رضا ربانی اور دیگر ارکین سینٹ نے آرمی چیف کو جمہور ی گلی کا دورہ بھی کرایا اور انہیں تاریخی باتیں بھی بتائی ۔دریں اثنا ڈی جی( ایم او) ملٹریآپریشنزجنرل ساحر شمشاد مرزا کی جانب سے سینٹ کی ہول کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ فوجی عدالتوں نے 274مقدمات کا فیصلہ کیا ہے جس میں 161مجرموں کو سزائے موت سنائے گئی ہے جبکہ ان میں سے 56مجرموں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا گیا ہے اس کے علاوہ 13مجرموں کو ردالفساد سے پہلے اور43مجرموں کو ردالفساد کےبعد پھانسی دی گئی ہے جنرل ساحر شمشاد مرزا نے بتایا کہ 7جنوری کو فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے پر مقدمات کی کارروائی روک دی گئی اور 28جنوری کو فوجی عدالتوں میں توسیع ہوئی قمر جاوید باجوہ کے چیف آف آرمی اسٹاف بنے کے بعد فوجی عدالتوں میں 160مقدمات بھجوائے گئے جس میں 33مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے8مجرموں کو سزائے موت اور 25کو قید کی سزا سنائی گئی اس حوالے سے 120مقدمات 19نومبر 2017کو فوجی عدالتوں میں بھجوائے گئے انہوں نے مزید اراکین سینٹ کو بریفنگ میں بتایا کہ آپریشن ردالفساد کے تحت پنجاب میں 13ہزار 11کارائیاں کی گئی خیبرپختونخواہ اور فاٹا میں 12سو 49 کومبنگ انٹیلی جنس بیس آپریشن کیے گئے .

بلوچستان میں 14سو 10سندھ میں 2ہزار 15 آپریشنز کیے اس کے حوالے پنجاب میں 7اور بلوچستان میں 29سندھمیں 2اور خیبر پختونخواہ اور فاٹا میں 31میجر آپریشنز کیے گئے مجموعی طور آپریشن ردالفساد کے تحت 69میجر آپریشنز ہوئے جبکہ انٹیلی جنس اطلاعات پر مجموعی طور پر 18ہزار 1کاروئیاں کی گئی اور 4ہزار 9سو83 سرچ بیس آپریشن کیے انہوں مزید بتایا کہ پنجاب میں 4ہزار 115بلوچستان میں 45سندھ میں 224کے پی اور فاٹا میں 558سرچ بیس آپریشن کیے اور ان آپریشن کےدوران مجموعی طور پر 19ہزار 9سو 93ہتھیار برآمد کیے گئے ۔

loading...
اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
صحت اورتندرستی
عجیب و غریب