الیکسی ناوالنی: ایمنسٹی انٹرنیشنل جیلوں میں قائم کریملن کے ناقدین کو ‘ضمیر کا قیدی’ کا درجہ بحال کرے گا


انسانی حقوق کا گروپ 24 فروری کو اعلان کیا کہ وہ اس وجہ سے نیولنی کو ضمیر کا قیدی قرار دینا بند کردے گا کہ ماضی میں انہوں نے ایسی رائے دی تھی جو نفرت کی وکالت کے اہل ہیں۔

نیولنی کے چیف آف اسٹاف لیونڈ ولکوف نے کینیڈا کے قانون سازوں سے انگریزی میں گفتگو کرتے ہوئے روس پر الزام لگایا کہ وہ سیاستدان کی ساکھ کو سیاہ کرنے کے لئے کئی طرح کی گھناؤنی حرکتیں کرتے ہیں۔

انہوں نے ہاؤس آف کامنس کی خارجہ امور کمیٹی کو بتایا ، “انہوں نے (ایمنسٹی) نے کل ہی مجھ سے کہا تھا کہ وہ 12 مئی کو ایک پریس ریلیز جاری کریں گے جب انہوں نے جانچ پڑتال کے بعد بتایا کہ روسی نا اہلی مہم ان پر اثرانداز ہونے میں کس طرح کامیاب ہوگئی۔”

روس نے الیکسی ناوالنی کی سیاسی تحریک کو پورے ملک میں معطل کردیا

انہوں نے کہا ، “وہ نہ صرف اس کی حیثیت بحال کریں گے بلکہ وہ پوسٹ مارٹم بھی جاری کریں گے۔”

لندن میں ایمنسٹی کے مرکزی میڈیا سنٹر کے ایک ترجمان نے کہا کہ انہیں فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

44 سالہ روسی حزب اختلاف کا سیاستدان تھا جنوری میں گرفتار کیا گیا اور پیرول کی خلاف ورزی پر اسے جیل بھیج دیا گیا۔

ناوالنی کو غیر قانونی امیگریشن کے خلاف ماضی کے قوم پرست بیانات اور کئی سال قبل ایک سالانہ قوم پرست مارچ میں شرکت کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *