19

یو ایس سی آڈٹ میں اربوں روپے کی کرپشن، بے ضابطگیوں کا پتہ چلا

لاہور: یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن (یو ایس سی) پاکستان کے آڈٹ میں اربوں روپے کی کرپشن اور بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان ذرائع کا کہنا ہے کہ یو ایس سی اکاؤنٹس کا فرانزک آڈٹ مکمل کر لیا گیا ہے اور اربوں روپے کی بے ضابطگیاں اور کرپشن کا پتہ چلا ہے۔ آڈٹ میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی خریداری میں بدعنوانی پائی گئی۔ اے جی ذرائع نے بتایا کہ غیر معیاری اشیاء کی ایک بڑی تعداد زیادہ قیمتوں پر خریدی گئی۔ ذرائع نے مزید کہا کہ رپورٹ صدر پاکستان کو پیش کی جائے گی۔

مقامی میڈیا کے مطابق یو ایس سی کی آڈٹ رپورٹ میں آٹے، چینی اور دیگر اشیاء کی خریداری میں 14 ارب روپے کی بے ضابطگیاں پائی گئیں۔ یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے آڈیٹر جنرل کی ٹیم کی جانب سے سال 2019-20 کے لیے جاری کردہ آڈٹ رپورٹ میں 14 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی۔

چینی اور آٹے کی خرید و فروخت میں 2.6 ارب روپے کے نقصان کا انکشاف ہوا ہے۔ یو ایس سی کو نادہندہ شوگر ملوں سے مہنگی چینی خریدنے پر 150 ملین روپے کا نقصان ہوا جبکہ ملوں سے غیر معیاری آٹا خریدنے میں کروڑوں روپے ضائع ہوئے۔ ذرائع کے مطابق یو ایس سی انتظامیہ نے فلور ملز کی ملی بھگت سے گندم اور آٹے کی خریداری میں فراڈ کیا جب کہ آڈٹ رپورٹ میں دیگر اشیاء کی خریداری میں 320 ملین روپے کی کرپشن کی بھی نشاندہی کی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ آڈٹ سے پتہ چلتا ہے کہ یو ایس سی بڑے پیمانے پر کرپشن کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں