10

پیپلز پارٹی نے گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کیا۔

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی کال پر پیپلز پارٹی نے گیس کی عدم دستیابی اور مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے جمعہ کو چاروں صوبوں بشمول سندھ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں گیس کی قلت اور مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

کوٹلی، مظفرآباد، میرپور، باغ، گلگت بلتستان، اسلام آباد، راولپنڈی، حافظ آباد، جہلم، اٹک، گوجر خان، گجرات، لیہ، بھکر، مظفر گڑھ، وزیرآباد، ملتان، خانیوال، قصور، اوکاڑہ، ساہیوال میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ سرگودھا، بہاولنگر، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، رحیم یار خان، پاکپتن، پسرور، خوشاب، فیصل آباد، جھنگ، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، منڈی بہاؤالدین، صادق آباد، کوئٹہ، قلات، ہرنائی، پشین، زیارت، جعفرآباد، موسیٰ خیل، صوبہ پور، قلات، قلات، صوابیہ، قلات، قلات، صوابدیدی، کوئٹہ، قلات، قلات، ہرنائی، پشین، زیارت، جعفرآباد، پسرور، خوشاب، فیصل آباد، جھنگ، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، منڈی بہاؤالدین، صادق آباد، کوئٹہ، قلات، ہرنائی، پشین، زیارت، قلات، پسرور، گوجرانوالہ، شیخوپورہ۔ شمالی وزیرستان، اپر اور لوئر دیر، تیمور گڑھ، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت، کوہاٹ، پشاور، نوشہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، مانسہرہ، مردان، بنوں، کراچی، حیدرآباد، میرپور خاص، مٹھی، عمرکوٹ، لاڑکانہ، خیرپور، نوشہروفیروز دادو، اوباڑو، گھوٹکی، بینظیر آباد، خیرپور ناتھن شاہ، جامشورو، سجاول، ٹھٹھہ، بدین، ٹنڈو الہ یار، ٹنڈو محمد خان، کندھ کوٹ، جیکب آباد اور شکارپور۔ مظاہرین نے حکومت مخالف نعرے لگائے۔

پیپلز پارٹی نے سکھر، خیرپور، گھوٹکی، لاڑکانہ، عمرکوٹ، ٹھٹھہ، دادو، حیدرآباد، کشمور، جیکب آباد سمیت دیگر شہروں میں بھی گیس اور بجلی کی شدید لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔ ریلیوں اور دھرنوں کی قیادت پیپلز پارٹی کے صوبائی وزراء، مشیران، سیاسی معاونین، ایم این اے اور ایم پی اے نے اپنے اپنے شہروں میں کی۔ دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر تحریک چلائی گئی تو پیپلز پارٹی کے تمام کارکن جیل جانے کے لیے تیار ہوں گے۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ موجودہ وزیراعظم قوم کو پرانا پاکستان واپس کریں۔ مقررین نے کہا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن کا سنگ بنیاد محترمہ بے نظیر بھٹو نے رکھا تھا اور اس کا باقاعدہ افتتاح 2013 میں صدر آصف علی زرداری نے کیا تھا لیکن حکمرانوں نے اس عظیم الشان قومی منصوبے کو ختم کر دیا۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں