17

گورنر سندھ کی شریف برادران پر تنقید

گورنر سندھ کی شریف برادران پر تنقید

کراچی: گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ملک سے کرپشن کے خاتمے کا مینڈیٹ لے کر اقتدار میں آئی ہے۔

ہفتہ کو یہاں گورنر ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ ’’ڈبل شریفوں‘‘ (نواز شریف اور شہباز شریف) کی 17 ہزار مشکوک ٹرانزیکشنز پکڑی گئی ہیں اور اس حوالے سے منی ٹریل بھی مل گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کے ملازمین کے بینک اکاؤنٹس مشکوک ٹرانزیکشنز کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے شریف برادران کے غیر قانونی کاروبار کو بے نقاب کر دیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ شریف برادران نے اپنے دور حکومت میں جو کچھ کیا شاید پاکستان کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ 1973 میں قومیانے کی پالیسی کی نقاب کشائی کے بعد بڑے کاروباری گروپ اپنے سرمائے کے ساتھ پاکستان سے باہر چلے گئے تھے کیونکہ اس وقت سے ملک کے کاروباری حلقوں کو حکومت کی پالیسیوں پر اعتماد نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا نے دنیا کے کئی ممالک کی معیشتوں کو نقصان پہنچایا ہے لیکن اس عرصے کے دوران پاکستان کی معیشت کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ پاکستان کو دیوالیہ ریاست قرار دے رہے ہیں وہ اب ہمارے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ملک میں سرمایہ کاری آئے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے قومی اداروں کو تباہ کیا اور اب وہ لندن میں مقیم ہیں، علاج کے لیے وہاں گئے تھے لیکن واپس نہیں آئے۔ گورنر نے کہا کہ یہ پرانے اور نئے پاکستان کے درمیان جنگ ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ شہباز شریف 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں جس مقصد کے لیے 16 مختلف اکاؤنٹس میں رقم منتقل کی گئی۔ ایک احمد شریف شریف گروپ سے منسلک چپراسی ہے کیونکہ اس کی تنخواہ صرف 25000 روپے ہے اور اس کے نام پر 10 بینک اکاؤنٹس موجود ہیں۔

گورنر نے کہا کہ پچھلی حکومتوں نے خود مختار پاور پروڈیوسرز کے ساتھ بدنام زمانہ معاہدے کیے تھے اور موجودہ حکومت ان غیر ضروری مالیاتی ذمہ داریوں سے بچنے کی کوششوں کے باوجود ان معاہدوں کا احترام کرنے کی پابند تھی۔

انہوں نے کہا کہ شریف برادران کی جانب سے کی گئی بدعنوانی کی ملک کی گزشتہ 50 سالہ تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں