13

سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا حکومت کو 6 ماہ میں زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں اسکول بنانے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا حکومت کو 6 ماہ میں زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں اسکول بنانے کا حکم دے دیا۔

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے منگل کے روز خیبرپختونخوا (کے پی) کی حکومت کو حکم دیا کہ وہ زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں اسکولوں کی تعمیر نو کا کام 6 ماہ میں مکمل کرے، اس انتباہ کے ساتھ کہ اگر یہ کام پورا نہ کیا گیا تو توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے گی۔ تعمیل

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے صوبے کے زلزلہ سے متاثرہ اضلاع میں اسکولوں کی تعمیر نہ ہونے سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر چیئرمین زلزلہ بحالی اور تعمیر نو اتھارٹی (ERRA) کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ عدالت نے صوبائی حکومت کو سکولوں کی تعمیر نو کے کام کی تکمیل کے حوالے سے 6 ماہ بعد جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ اگر اس کے حکم پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو حکم عدولی پر توہین عدالت کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

سماعت کے دوران کے پی حکومت کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے صوبے کے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں 70 فیصد تعمیراتی کام مکمل کر لیا گیا ہے، تقریباً 244 سکولوں کی تعمیر نو کی جا چکی ہے۔ اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ عدالت نے متاثرہ اسکولوں کی تعمیر نو کے لیے رواں سال اگست کی ڈیڈ لائن دی تھی۔ تاہم شمالی علاقہ جات میں تعمیراتی کام موسم سرما کی وجہ سے بند رہا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے افسر سے کہا کہ وہ اسکولوں کی تعمیر نو کے لیے حتمی تاریخ بتائیں اور یہ اسکول کب فعال ہوں گے۔ کے پی حکومت کے وکیل نے جواب دیا کہ اس حوالے سے مارچ 2022 کے بعد دو ماہ کا وقت دیا جائے۔ عدالت نے کے پی حکومت کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت چھ ماہ کے لیے ملتوی کر دی اور ہدایت کی کہ ایرا کے چیئرمین اگلی تاریخ پر ذاتی طور پر پیش ہوں۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں