10

سپریم کورٹ نے ڈار کی بطور سینیٹر نااہلی کی درخواست خارج کر دی۔

مسلم لیگ ن کے رہنما اسحاق ڈار۔  فائل فوٹو
مسلم لیگ ن کے رہنما اسحاق ڈار۔ فائل فوٹو

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے منگل کو سابق وزیر خزانہ اور پی ایم ایل این کے رہنما اسحاق ڈار کو کرپشن کیس میں مفرور ہونے کی وجہ سے سینیٹر کی حیثیت سے نااہل قرار دینے کی درخواست مسترد کردی۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مقدمہ نہ چلانے کی درخواست خارج کر دی۔

فوری درخواست خارج ہونے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان ڈار کے بطور سینیٹر نوٹیفکیشن جاری کرنے کا پابند ہے۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ ڈار 2018 میں سینیٹر منتخب ہوئے تاہم انہوں نے حلف نہیں اٹھایا کیونکہ عدالت عظمیٰ نے ڈار کے نوٹیفکیشن کو روک دیا تھا۔ لاء آفیسر نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار نے ڈار کی بطور سینیٹر اہلیت کو چیلنج کیا تھا۔ تاہم عدالت نے فیصلہ آنے تک ڈار کا بطور سینیٹر نوٹیفکیشن معطل کر دیا تھا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ نیا قانون بنایا گیا ہے جس کے تحت اگر کوئی رکن پارلیمنٹ 60 دن میں حلف نہ اٹھا سکے تو اس کی نشست خالی تصور کی جائے گی۔

ڈار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل بیماری کی وجہ سے بیرون ملک ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ درخواست گزار نوازش پیرزادہ گزشتہ سماعت پر عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور وہ بھی آج عدالت میں پیش نہیں ہوئے، انہوں نے مزید کہا کہ عدالت نے ڈار کو طلب کیا تھا لیکن وہ بھی پیش نہیں ہوئے۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں