14

سندھ حکومت کو سیس، ایس ایچ سی کا مطالبہ کیے بغیر ایل این جی کنسائنمنٹ صاف کریں۔

سندھ حکومت کو سیس، ایس ایچ سی کا مطالبہ کیے بغیر ایل این جی کنسائنمنٹ صاف کریں۔

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے منگل کے روز سندھ حکومت کو پاکستان ایل این جی کمپنی کے خلاف کوئی منفی یا زبردستی کارروائی کرنے اور انفراسٹرکچر سیس کا مطالبہ کیے بغیر اس کی کنسائنمنٹ کو کلیئر کرنے کی اجازت دینے سے روک دیا جس میں فرق کی رقم کے برابر بینک گارنٹی فراہم کی جائے۔

یہ ہدایت سندھ حکومت کی جانب سے روڈ انفراسٹرکچر سیس لگانے کے خلاف پاکستان ایل این جی کی درخواست پر سامنے آئی۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ کمپنی مائع قدرتی گیس اور بعد میں محفوظ ری گیسیفائیڈ ایل این جی درآمد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایل این جی کو سوئی سدرن اور ناردرن گیس کمپنیوں کے ذریعے پائپ لائنوں کے ذریعے پورٹ قاسم کے ذریعے ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی ایل کے درمیان متعلقہ ٹرانسپورٹیشن معاہدے کے تحت پہنچایا گیا اور اس مقصد کے لیے کوئی روڈ انفراسٹرکچر استعمال نہیں کیا گیا۔

جسٹس سید حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں سندھ ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے درخواست کی ابتدائی سماعت کے بعد ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور دیگر کو نوٹس جاری کیے اور اس دوران سندھ حکومت کو پاکستان ایل این جی کمپنی کے خلاف کسی بھی قسم کے منفی یا زبردستی کارروائی سے روک دیا۔ عدالت نے کمپنی کو انفراسٹرکچر سیس کا مطالبہ کیے بغیر اپنی کنسائنمنٹس کو کلیئر کرنے کی بھی اجازت دی جس کے تحت فرق کی رقم کے برابر بینک گارنٹی دی جائے۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں