12

آئی ایچ سی نے نیول سیلنگ کلب کیسز کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

آئی ایچ سی نے نیول سیلنگ کلب کیسز کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیول سیلنگ کلب اور نیول فارمز کی تعمیر سے متعلق یکساں کیسز کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے سی ڈی اے کے رکن سے استفسار کیا کہ عدالت فیصلہ سنانے سے پہلے دو نکات واضح کرنا چاہتی ہے، کیا قانون میں ایسی کوئی شق نہ ہونے کے باوجود شہری ادارے نے کسی کو عدم تحفظ کا سرٹیفکیٹ جاری کیا؟

عدالت نے مزید استفسار کیا کہ کیا زون فور میں تعمیرات 1994 میں ہوسکتی ہیں؟سی ڈی اے ممبر پلاننگ نے موقف اپنایا کہ اس وقت فارم ہاؤسز کو ایسی اجازت تھی۔ انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ نیول سیلنگ کلب کو تاحال سیل کیا گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی بھی عمارت قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہے تو اسے گرایا جا سکتا ہے۔

بنچ کے استفسار پر سی ڈی اے کے رکن نے کہا کہ اتھارٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کو اپنے قبضے میں لے لیتی تھی اور اگر مذکورہ سوسائٹی کا این او سی منسوخ کر دیا جاتا تھا تو اس کے دفاتر سیل کر دیتے تھے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ راول جھیل کے اطراف تعمیرات کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ بعد ازاں عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا جو آج (جمعہ کو) سنائے جانے کا امکان ہے۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں