12

ادارتی | خصوصی رپورٹ | thenews.com.pk

اداریہ

ٹیوہ انتخابی بخار سے گونج رہا ہے۔ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ حال ہی میں اختتام پذیر ہوا ہے۔ دوسرے مرحلے کا انتظار ہے۔ سندھ اور پنجاب بھی اپنے بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہیں، اور ملک کو اپنی لپیٹ میں لینے والی سردی کی لہر کے باوجود آنے والے مہینوں میں سیاسی درجہ حرارت بڑھنے کا پابند ہے۔

یہ دیکھنا صرف حوصلہ افزا ہے کہ انتخابی سیاست کی پریشان کن تاریخ رکھنے والا ملک جمہوری عمل کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اگرچہ ایک حقیقی جمہوری اور ترقی پسند معاشرے کی خواہش کرنے کے لیے ابھی بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے، لیکن انتخابی عمل کے تسلسل کی اہمیت کو کم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اسے کم کرنا چاہیے۔

ہماری اس ہفتے کی خصوصی رپورٹ بلدیاتی انتخابات کے موجودہ دور، ابھرتے ہوئے رجحانات اور ملک بھر میں اس عمل کو درپیش بہت سے چیلنجز کے بارے میں ہے۔

یہ دیکھتے ہوئے کہ مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں نے پچھلے کچھ سالوں میں دوسرے محاذوں پر ایک دوسرے سے سخت مقابلہ کیا ہے، انتخابی میدان وہیں ہے جہاں اصل جنگ ہے۔ خیبرپختونخوا میں حکمران جماعت کی شکست ایک ایسی جماعت کے لیے سبق آموز رہی ہے جس نے نہ صرف اپنے ‘آبائی’ صوبے میں بلکہ پورے ملک میں عوامی حمایت کا دعویٰ کیا تھا۔ لیکن شاید، اس میں ان تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے لیے سبق ہے جو طویل عرصے سے گزرے ہوئے دنوں، جمہوریت اور ایک خوشحال ملک کے لیے کیے گئے وعدوں کی رونقوں میں مبتلا ہیں۔ بیان بازی سے انہیں صرف ایک خاص فاصلہ ملے گا، جس سے آگے ان کی کارکردگی ہی مستقبل کے بلدیاتی اور قومی انتخابات میں کامیابی کا تعین کرے گی۔

اس بار، مقامی حکومتوں کی سطح پر، مخصوص مذہبی سیاسی جماعتوں کے عروج کو انتخابی عمل کے نتائج میں ایک اہم عنصر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ہم اس ہفتے کی اپنی خصوصی رپورٹ میں اس پہلو اور مزید کا جائزہ لیں گے۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں