22

‘نیب میگا کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم’

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال (ر) نے کہا کہ نیب منی لانڈرنگ، جعلی اکاؤنٹس، ذرائع آمدن سے زائد اثاثہ جات، عوام کو بڑے پیمانے پر دھوکہ دینے، غیر قانونی رہائشوں کے میگا کرپشن کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔ کوآپریٹو سوسائیٹیز اور مضاربہ/مشارکہ کے مقدمات قانون کے مطابق اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے

چیئرمین نیب نے منگل کو نیب ہیڈ کوارٹرز میں پراسیکیوشن اور آپریشن ڈویژن کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں نیب کے ڈپٹی چیئرمین ظاہر شاہ، پراسیکیوٹر جنرل اکائونٹیبلٹی (پی جی اے) سید اصغر حیدر، ڈی جی آپریشنز اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ پراسیکیوشن ڈویژن نیب کے تمام علاقائی بیوروز سے شکایات کی تصدیق، انکوائریوں، تحقیقات، ریفرنسز اور نیب کے زیر التوا مقدمات کو ٹھوس بنیادوں پر بھرپور طریقے سے چلانے میں قانونی معاونت حاصل کرنے کے لیے آپریشن ڈویژن کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ قانون کے مطابق عدالتوں میں ثبوت۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ چیئرمین نیب کی ہدایت پر تجربہ کار لیگل کنسلٹنٹس/ سپیشل پراسیکیوٹرز کو شامل کر کے پراسیکیوشن ڈویژن کی تشکیل نو کی جا رہی ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ انسداد بدعنوانی کے ادارے نے نہ صرف ’’احتساب سب کے لیے‘‘ کی پالیسی اپنائی ہے بلکہ احتساب عدالتوں سے 1405 ملزمان کو سزائیں سنائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے 1237 ریفرنسز احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن کی مالیت 1335 ارب روپے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیب نے زیر سماعت مقدمات کی جلد سماعت کے لیے درخواستیں دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے 179 میگا کرپشن کیسز میں سے 66 مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا ہے جبکہ 93 مقدمات احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن تقریباً تمام مسائل کی جڑ ہے جس سے ملک کی سماجی، معاشی ترقی اور خوشحالی متاثر ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن (UNCAC) کے تحت نیب پاکستان کا فوکل ادارہ ہے تاکہ بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے اور “احتساب سب کے لیے” کی پالیسی اپنا کر پاکستان کو بدعنوانی سے پاک بنایا جا سکے۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں