11

سب سے زیادہ بولی لگانے والے کو انصاف بیچا جا رہا ہے: جسٹس فائز

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پیر کے روز ریمارکس دیئے کہ ملک میں سب سے زیادہ بولی لگانے والے کو انصاف بیچا جا رہا ہے۔

عدالت نے غیرت کے نام پر قتل کیس میں پولیس کی ناقص تفتیش پر سخت استثنیٰ لیتے ہوئے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن مردان کو کیس ریکارڈ سمیت طلب کرلیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے غیرت کے نام پر قتل کیس میں مبینہ طور پر ملوث ملزم جناب عالی کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ تفتیشی افسر (آئی او) نے مرکزی گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں کیا، تفتیشی مہارت سے محروم افسران کو معطل کیا جائے۔ عدالت نے ملزم کے خلاف شواہد طلب کیے جس پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ شریک ملزم محمد علی کا کال ریکارڈ ڈیٹا ریکارڈ پر موجود ہے۔

تاہم جسٹس عیسیٰ نے آئی او سے پوچھا کہ کیا شریک ملزمان اور گواہ کے بیانات قلمبند کیے گئے؟ آئی او نے جواب دیا کہ خاتون گواہ اپنا بیان ریکارڈ کرانے سے گریزاں ہے۔ اس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آئی او کو ان کے موقف پر تنبیہ کی۔

جسٹس عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا ملک میں خاتون کے قتل کی کوئی اہمیت نہیں؟ جج نے مشاہدہ کیا کہ پولیس مقدمات کی تفتیش کے لیے اپنی تنخواہیں لیتی ہے، اور آئی او سے پوچھا کہ گواہ کو بیان ریکارڈ نہ کرنے پر گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔

عدالت نے ڈی آئی جی کو کیس کے ساتھ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 15 روز کے لیے ملتوی کردی۔ سماعت کے آغاز پر جب جسٹس عیسیٰ نے مرکزی ملزم کا نام پوچھا تو آئی او نے جواب دیا جناب عالی جناب۔ جسٹس عیسیٰ نے تفتیشی افسر سے پوچھا کہ بار بار جناب عالی کیوں کہہ رہے ہیں لیکن ملزم کا نام نہیں لے رہے۔ افسر نے جواب دیا کہ ملزم کا نام جناب عالی ہے۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں