10

سندھ کو 1991 کے معاہدے سے 22 فیصد کم پانی مل رہا ہے۔

سکھر: سندھ کے وزیر آبپاشی جام خان شورو نے کہا کہ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) پانی کی تقسیم کے معاہدے 1991 کی خلاف ورزی کر رہی ہے جس کے نتیجے میں سندھ کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے جو 42 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ جام خان شورو نے کہا کہ ارسا ملک بھر میں پانی کے 1991 کے معاہدے پر عمل درآمد نہیں کر رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں جلد ہی پانی کا شدید بحران پیدا ہو جائے گا کیونکہ سندھ کو اس کے جائز حصے سے 22 فیصد کم پانی سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے سندھ کا حصہ کاٹنے پر ارسا کے کردار کی شدید مذمت کی جو کہ 1991 کے پانی کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ شورو نے کہا کہ پانی کے شدید بحران کی وجہ سے ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو سکتی ہیں، بشمول پینے کے پانی کا بحران جو کہ کراچی میں جلد پیدا ہونے والا ہے۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں