15

کیا نیب مرحوم اسد منیر کو واپس لا سکتا ہے، چیف جسٹس اسلام آباد

اطہر من اللہ۔  تصویر: دی نیوز/فائل
اطہر من اللہ۔ تصویر: دی نیوز/فائل

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے نارووال اسپورٹس سٹی کمپلیکس کے اختیارات کے ناجائز استعمال میں وفاقی وزیر احسن اقبال کی بریت کے لیے دائر اپیل میں قومی احتساب بیورو (نیب) کو کیس کی تیاری کے لیے 8 جون تک کی مہلت دے دی۔

چیف جسٹس نے نیب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر سے پوچھا کہ کیا آپ کو احد چیمہ کیس کا علم ہے؟ ”کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ نیب کو کتنا نقصان ہوا؟ کیا اس کی تلافی ہو سکتی ہے؟ کیا آپ بریگیڈیئر اسد منیر کو واپس لا سکتے ہیں؟

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ ایگزیکٹوز بہت سے فیصلے نیک نیتی سے لیتے ہیں جس سے نقصان بھی ہو سکتا ہے لیکن اسے کرپشن نہیں سمجھا جا سکتا۔ IHC کے چیف جسٹس نے سوال کیا کہ “پبلک فنڈز کے استعمال سے شروع ہونے والے عوامی منصوبوں میں تاخیر کی وجہ سے ہونے والے نقصان کا ذمہ دار کون ہوگا۔” انہوں نے ریمارکس دیے کہ اس نقصان کا ذمہ دار نیب ہے، نیب اب اپنے خلاف ریفرنس کیوں نہیں دائر کرتا؟

چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے احسن اقبال کی بریت کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے ذوالفقار نقوی ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ نیب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل جہانزیب بھروانہ نے کہا کہ عدالت نے گزشتہ سماعت پر دو ٹاسک دیے تھے۔ عدالت نے پوچھا کہ کیا ضمنی ریفرنس دائر کیا جا سکتا ہے؟ یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا یہ ذاتی مالی فائدے کے بغیر حوالہ ہو سکتا ہے؟

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے نیب پراسیکیوٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس حد تک مطمئن ہیں کہ یہ کرپشن کا کیس نہیں، صرف اختیارات کے ناجائز استعمال کا کیس ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ایک عوامی منصوبہ ہے جس میں کوئی کرپشن نہیں ہوئی اور عوامی فنڈز استعمال کیے گئے۔ چیف جسٹس نے نوٹ کیا کہ آپ نے ایک شخص کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔

کیا اسے سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے منظور کیا تھا؟ اس منصوبے کی منظوری دینے والا ادارہ واحد درخواست گزار نہیں تھا۔ کیا اسے صرف نشانہ بنایا گیا؟ کیا انہوں نے اپنے سروں پر بندوق رکھ کر سب کو دستخط کرائے؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ وزارت بین الصوبائی رابطہ کے سیکرٹری منظوری دینے والے بن گئے جنہوں نے کہا کہ ان پر دباؤ ڈالا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اختیارات کا غلط استعمال ہوا ہے تو یہ سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ نے کیا جس کے پاس اصل اختیار تھا۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا کوئی مجھ پر دباؤ ڈال سکتا ہے کیونکہ چیف جسٹس ایک ایسے شخص کو معاف کر رہے ہیں جس کا مقصد اسے احسن اقبال کے خلاف گواہ بنانا تھا؟ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی پر انہیں معاف کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا نیب اصل مجرموں کو معاف کر کے کرپشن کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے؟

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں