23

ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے تمام جماعتوں کو آپس میں بات کرنا ہو گی، سرور

دبئی: سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ انتخابی اصلاحات کے بغیر عام انتخابات ہوئے تو شکست خوردہ جماعتیں دوبارہ احتجاج کریں گی۔

وہ امارات پہنچنے کے بعد دبئی میں میڈیا سے خطاب کر رہے تھے۔ پریس کانفرنس میں پاکستانی بزنس مین ملک منیر اعوان اور پاکستان کے سابق ہاکی اولمپیئن جعفر حسین بھی موجود تھے۔

چوہدری محمد سرور نے تمام سیاسی جماعتوں کو مشورہ دیا کہ وہ مشاورت سے انتخابی اصلاحات کریں ورنہ عام انتخابات کے بعد نئے تنازعات جنم لیں گے۔

سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے تجویز دی کہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے موجودہ حکومت جلد از جلد سخت فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم کی قیمتوں میں عالمی منڈی کے مطابق اضافہ نہ کیا گیا تو ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔

چوہدری محمد سرور نے پی ٹی آئی کی سابقہ ​​حکومت کی معاشی پالیسیوں کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ غلط معاشی اقدامات کی وجہ سے ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔

سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے چوہدری سرور نے واضح طور پر کہا کہ وہ ماضی میں بھی سیاسی انتقام کی مذمت کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے ملک کی سیاسی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’کسی بھی سیاسی جماعت کو سیاسی انتقام کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا‘‘۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ عمران خان پاکستان کی سیاسی حقیقت ہیں جیسے کہ پی ایم ایل این، پی پی پی اور مولانا فضل الرحمان ملک کی سیاسی طاقتیں ہیں۔

جوڈیشل ایکٹوازم کے حوالے سے سابق گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں کو سیاسی مسائل عدالتوں کے بجائے خود حل کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں کو اپنا وقت عوامی مقدمات کے حل میں صرف کرنا چاہیے لیکن، انہوں نے مزید کہا، بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو رہا۔

عمران خان سے اختلافات کی وجہ سے متعلق سوال کے جواب میں چوہدری سرور نے کہا کہ گورنر کا کردار آئینی ہے اور اسے مروجہ قوانین کے مطابق ہی چلایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماورائے آئین اقدامات ملکی نظام کو مفلوج کر دیں گے۔ انہوں نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ استعفیٰ جمع کرانے سے پہلے استعفیٰ منظور نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب عثمان بزدار نے 31 مارچ کو استعفیٰ دیا تو اسی تاریخ کو انہوں نے اسے قبول کر لیا۔

انہوں نے موجودہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی جرأت مندانہ سیاست کو سراہتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر سمیت اپنے پارٹی کارکنوں اور قیادت کے بہیمانہ قتل کے بعد بھی پارٹی قیادت بڑی دانشمندی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ بھٹو اور بھٹو خاندان کے دیگر افراد۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں