17

شہباز اور حمزہ عدالت میں پیش ضمانت میں 4 جون تک توسیع

لاہور: خصوصی عدالت نے 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی ضمانت میں 4 جون تک توسیع کردی۔

باپ بیٹا دیگر ملزمان کے ہمراہ سخت سیکیورٹی میں عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت شروع ہوتے ہی عدالت نے سابقہ ​​سماعت پر جاری کیے گئے ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کے بارے میں پوچھا۔

جج نے پوچھا کہ وارنٹ گرفتاری کس نے تیار کیے، کیوں کہ وارنٹ گرفتاری پر سلیمان کے والد کا نام نہیں تھا۔

جج نے استفسار کیا کہ کیا کوئی عدالت کو بتا سکتا ہے کہ سلیمان کون ہے جس کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں۔

فاضل جج نے ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر فاروق باجوہ کی نشاندہی بھی کی کہ ایف آئی اے نے شہباز کے بیٹے اور دیگر دو ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے جو رپورٹ تیار کی ہے اس میں بہت زیادہ تضاد ہے۔

فاضل جج نے تعمیلی رپورٹ پڑھتے ہوئے کہا کہ ایک طرف رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈی 41 ماڈل ٹاؤن ایک ایڈریس ہے جس کا کوئی وجود نہیں، دوسری طرف یہ کہتا ہے کہ ملزم سلیمان شہباز بیرون ملک تھا۔ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ پتہ وہاں موجود ہے تاہم ملزم کا پتہ نہیں چل سکا۔

جج نے ریمارکس دیے کہ رپورٹ سلیمان اور ایک اور مشتبہ شخص کے بارے میں معمول کی تفصیلات کا ذکر کرنے میں بھی ناکام رہی۔

فاضل جج نے کہا کہ ایف آئی اے کی تیار کردہ رپورٹ میں خامیاں ہیں۔ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کر کے تازہ رپورٹ پیش کرے گی۔

شہباز شریف کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں جس سے ان کے موکل پر الزامات ثابت ہو سکیں، انہوں نے مزید کہا کہ کیس خالصتاً کہانی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دفاع کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ آیا مقدمے میں استغاثہ کے گواہوں کے بیانات درست ہیں۔

گواہ یہ نہیں کہتے کہ یہ اکاؤنٹس شہباز شریف کے تھے۔ انہوں نے دلیل دی کہ مشتاق چنی نے اکاؤنٹس بھی کھولے لیکن ان کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ کارروائی تاحال جاری ہے۔

وکیل امجد پرویز نے عدالت سے استدعا کی کہ بینک اکاؤنٹ کھولنے کے لیے استعمال ہونے والے فارم میں کہیں نہیں لکھا کہ اکاؤنٹ شہباز شریف کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقدمے کے چالان میں چوہدری شوگر ملز، العربیہ رمضان شوگر مل کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ چالان میں صرف کہانیاں لکھی گئی تھیں۔

وکیل نے کہا کہ مقصود چپراسی کے بیان پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس نے چیکوں پر لفظ ’سیلف‘ لکھا، عدالت کو کیشئر رمضان کے اکاؤنٹ کھولنے کے فارم پیش کیے گئے، وکیل نے پوچھا کہ کیا شہباز شریف موجود ہیں؟ شریف کا گٹھ جوڑ، ایف آئی اے نے ان سے تفتیش کی تو انہیں کوٹ لکھپت جیل سے گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔

جب ان کے موکل نے ضمانت حاصل کر لی تو ایف آئی اے نے ان کے خلاف مقدمہ قائم کیا۔ اور جب بجٹ کا وقت قریب آیا تو ایف آئی اے نے دوبارہ نوٹس جاری کر دیا۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ محمد مقصود پر 3.4 ارب روپے کی ٹرانزیکشن کا الزام ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ رمضان شوگر مل کے لیٹر پیڈ پر تنخواہ کے اکاؤنٹ کے علاوہ کوئی اکاؤنٹ نہیں ہے۔ شہباز شریف کو مقصود کے اکاؤنٹ سے ایک پیسہ بھی نہیں ملا، مقصود کی 90 فیصد ٹرانزیکشن نقد نہیں بلکہ ٹرانسفر انٹریز کی تھیں۔ گٹھ جوڑ قائم ہوا لیکن حقیقت یہ تھی کہ شہباز شریف کا الزامات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

دریں اثناء وزیر اعظم شہباز شریف نے عدالت سے باہر جانے کی اجازت مانگی جو منظور کر لی گئی۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں