17

چیئرمین نیب نے اپنے عہدے کا چارج چھوڑ دیا۔

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے جمعرات کو آرڈیننس کی میعاد ختم ہونے پر اپنے عہدے کا چارج چھوڑ دیا جس کے ذریعے انہیں نئے چیئرمین کی تقرری تک توسیع دی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق جمعرات کو نیب ہیڈ کوارٹرز میں سبکدوش ہونے والے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے اعزاز میں الوداعی تقریب بھی منعقد ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈپٹی چیئرمین نیب ظاہر شاہ نئے چیئرمین کی تقرری تک قائم مقام چیئرمین نیب کے طور پر کام کریں گے، ڈپٹی چیئرمین نیب کے پاس انتظامی اختیارات ہیں اور وہ نئے چیئرمین کی تقرری تک روزمرہ کے معاملات دیکھ سکتے ہیں۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال کا بطور چیئرمین نیب چار سالہ آٹھ ماہ کا دور بیورو کے متنازع ترین دوروں میں سے ایک تھا۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال کی 2017 میں تقرری کی منظوری وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے دی تھی۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال کے چیئرمین نیب کے دور میں شاہد خاقان عباسی اور سید خورشید شاہ دونوں کو کرپشن کے الزامات میں جیل بھیج دیا گیا۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال کے بطور چیئرمین نیب کے دور کو انتہائی ہنگامہ خیز قرار دیا جا سکتا ہے جیسا کہ ان کے دور میں سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی، سابق صدر آصف علی زرداری، موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف اور دیگر کئی سیاسی رہنمائوں نے نیب کے حوالے کیا۔ بیوروکریٹس اور تاجروں کو حراست میں لیا گیا لیکن پی ٹی آئی کے منصوبوں میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات نہیں کی گئیں۔

آئینی طور پر چیئرمین نیب کی مدت چار سال ہے جب کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے اکتوبر 2021 میں اپنی مدت پوری کی تھی تاہم پی ٹی آئی نے نیب ترمیمی آرڈیننس جاری کیا جس کے ذریعے انہیں نئے چیئرمین نیب کی تقرری تک توسیع دی گئی۔

تاہم پی ٹی آئی حکومت نے نئے چیئرمین کی تقرری کے لیے اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کا عمل شروع نہیں کیا۔

نیب آرڈیننس میں ترامیم سے متعلق نئے بل کے تحت جسے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کیا گیا تھا، چار سال کی مدت پوری کرنے والے چیئرمین نیب کو دوسری مدت کے لیے چیئرمین نیب تعینات نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کیے گئے نیب میں ترامیم سے متعلق بل پر دستخط نہیں کیے ہیں۔

نئے چیئرمین نیب کی تقرری کے لیے حکومت پہلے ہی سے مشاورت کر رہی تھی اور اس عہدے کے لیے مضبوط امیدوار کے طور پر جسٹس (ر) مقبول باقر کے نام پر غور کیا جا رہا ہے، اس کے علاوہ جسٹس (ر) دوست محمد کے نام پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ایف آئی اے میں خدمات انجام دینے والے سابق سینئر پولیس اہلکاروں آفتاب سلطان اور بشیر میمن اور سابق بیوروکریٹ اخلاق تارڑ کو بھی شارٹ لسٹ کیا گیا۔

قومی اسمبلی نے قومی احتساب آرڈیننس 1999 میں مختلف ترامیم کے لیے قومی احتساب (دوسری ترمیم) بل 2021 بھی منظور کر لیا۔ نیب آرڈیننس کے آغاز کی تاریخ۔ ترمیم پی ایم ایل این کے ایم این اے محسن شاہنواز رانجھا نے شیزا فاطمہ، شاہدہ اختر علی اور دیگر کی جانب سے پیش کی۔

نیب میں ترمیم سے متعلق نئے بل کے مطابق چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ پر ڈپٹی چیئرمین نیب کو قائم مقام چیئرمین تعینات کیا جائے گا۔ بل میں چیئرمین نیب اور بیورو کے پراسیکیوٹر جنرل کی چار سال کی مدت بھی کم کر کے تین سال کر دی گئی ہے۔ ڈپٹی چیئرمین کی تقرری کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہوگا۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں