12

سپریم کورٹ نے میشا شفیع کے خلاف کارروائی روک دی۔

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سیکیورٹی اداروں کو میشا شفیع کے خلاف کارروائی سے روک دیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے بدھ کو پی ای سی اے آرڈیننس کے سیکشن 20 کے خلاف گلوکارہ میشا شفیع کی درخواست کی سماعت کی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ ایک ہائی کورٹ نے پی ای سی اے آرڈیننس کے سیکشن 20 کو کالعدم قرار دیا جبکہ لاہور ہائی کورٹ اسے برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ہمیں دو ہائی کورٹس کے متضاد فیصلوں کی آئینی پوزیشن کو دیکھنا ہو گا۔

میشا شفیع کے وکیل ثاقب جیلانی نے کہا کہ ہتک عزت کا مقدمہ سول نوعیت کا ہے۔ “اگر یہ ثابت ہو جائے تو جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ مضحکہ خیز قوانین بنائے گئے ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اظہار رائے کی آزادی کو مجرمانہ فعل کیوں بنا رہے ہیں؟

علی ظفر کے وکیل سبطین فضلی نے کہا: “پوری دنیا میں الزامات کے خلاف دعوے کیے جاتے ہیں اور سزا دی جاتی ہے۔ یہ تمام مہم بدنامی کے زمرے میں آتی ہے۔ سوشل میڈیا پر علی ظفر کے خلاف مہم چلائی گئی۔

جج نے کہا کہ اگر “چور کو چور کہنے” کی سزا ہو گی۔ ’’اگر کوئی کسی کو چور یا قاتل کہے تو کیا صرف اتنا کہنے کی سزا دی جائے گی؟ جسٹس عیسیٰ نے سوال کیا۔ جج نے کہا کہ آج کل ہر ٹی وی چینل پر صرف چور، چور ہی سنائی دے گا، ججز پر بھی انگلیاں اٹھ رہی ہیں، کیوں؟

جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے سوشل میڈیا پر کالعدم تنظیموں کے مواد پر آنکھیں بند کر لیں لیکن وہ ایک ہی ٹویٹ پر تیزی سے حرکت میں آجائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں آپ کسی کے بارے میں کچھ بھی کہہ سکتے ہیں اور کوئی بھی کارروائی کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرے گا۔

جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ فوجی آمر ضیاءالحق کے دور میں قزف آرڈیننس کے تحت خواتین کو سزائیں سنائی جاتی تھیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اسلام نے خواتین کو مکمل تحفظ فراہم کیا ہے۔

اسلامی قوانین مضحکہ خیز نہیں بلکہ مارشل لاء مضحکہ خیز ہیں۔ عدالت نے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے مقدمے کی فوجداری کارروائی کو آئندہ سماعت تک روکنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف دیوانی کیس جاری رہے گا۔ عدالت نے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں