11

پی اے سی نے سستے روسی تیل پر پی ٹی آئی کے دعوؤں کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔

اسلام آباد: چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نور عالم خان نے بدھ کے روز پی ٹی آئی حکومت کے اس دعوے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے کہ وہ روس سے سستے تیل کی خریداری پر مذاکرات کر رہی ہے۔

پی اے سی نے اپنے اجلاس میں پی ایس او کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی فراہمی سے متعلق معاہدوں میں 56 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کے معاملے پر بھی غور کیا۔ چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے بیرون ملک فرار ہونے والے پی ایس او اور پی پی ایل کے سابق ایم ڈیز اور جنرل منیجرز کے انٹرپول کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی ہدایت کی۔

پی اے سی کو یہ بھی بتایا گیا کہ توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ 4 کھرب روپے (4000 ارب روپے) تک پہنچ گیا ہے۔ اس میں سے 2.5 ٹریلین روپے (2,500 بلین روپے) پاور سیکٹر سے اور 1.5 ٹریلین روپے (1,500 بلین روپے) گیس سیکٹر سے ہیں۔ تاہم پاور سیکٹر اور گیس کمپنیوں کا مجموعی گردشی قرضہ بڑھ رہا ہے۔

پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت ہوا جس میں مالی سال 20-2019 کے پیٹرولیم ڈویژن سے متعلق آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے سستا روسی تیل کا معاہدہ کرنے کے دعوؤں کے حوالے سے چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن سے استفسار کیا کہ کیا کوئی معاہدہ ہوا اور کیا اس کے لیے کوئی رقم مختص کی گئی یا دی گئی۔

پی ٹی آئی کے رکن سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت نے روس سے مذاکرات شروع کر دیے ہیں، مذاکرات کا انجام کمیٹی کو بتائیں گے۔ اس پر چیئرمین پی اے سی نے روس کے ساتھ تبادلہ ہونے والی دستاویزات طلب کیں۔ پی اے سی کے رکن سینیٹر طلحہ محمود نے بھی روس سے تیل کی درآمد کی تحقیقات کا مطالبہ کیا جس پر چیئرمین پی اے سی نے تحقیقات کا حکم دیا۔

جب پینل پی ایس او کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی فراہمی سے متعلق معاہدوں میں 56 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں سے متعلق آڈٹ پیراز کا جائزہ لے رہا تھا تو سیکریٹری توانائی نے اسے بتایا کہ سابق ایم ڈی پی ایس او نعیم یحییٰ میر اور سینئر جنرل منیجر ذوالفقار جعفری نے معاہدے کیے تھے۔ قواعد. نور عالم خان نے کرپشن کے بعد فرار ہونے والے ایم ڈی، جی ایمز پی ایس او کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب کیں جو بالآخر نیب کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔ اس پر چیئرمین پی اے سی نے ان کی وطن واپسی کے لیے ان کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کے لیے انٹرپول سے رابطہ کرنے کو کہا اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی بھی ہدایت کی۔

گیس اور پاور سیکٹر کے بڑھتے ہوئے گردشی قرضے کے حوالے سے سیکرٹری انرجی ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ گیس سیکٹر میں بڑھتے ہوئے گردشی قرضے کے باعث مقامی کمپنیوں نے بھی سرمایہ کاری روک دی ہے۔ چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ اوگرا ایکسپلوریشن کمپنیوں کو سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے جس کی وجہ سے کوئی سرمایہ کاری نہیں ہو رہی۔ پی اے سی نے توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے کے معاملے پر سیکرٹری پٹرولیم ڈویژن، سیکرٹری توانائی، سیکرٹری خزانہ اور دیگر حکام سے آج (جمعرات) بریفنگ طلب کر لی ہے۔

57 ہزار 565 گیس صارفین سے بلوں کی عدم وصولی کا جائزہ لیتے ہوئے وزارت توانائی کے عہدیدار نے کمیٹی کو بتایا کہ 20 ارب روپے میں سے 14 ارب روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔ سیکرٹری پٹرولیم ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ کے الیکٹرک پر ایس ایس جی سی کے 126 ارب روپے واجب الادا ہیں۔ پی اے سی نے اس معاملے پر کے الیکٹرک کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا ہے۔

گیس پروسیسنگ سہولت کے قیام میں تاخیر کا جائزہ لیتے ہوئے کیس کی تحقیقات کرنے والی ایف آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ سید وامق بخاری پی پی ایل کے ایم ڈی تھے اب بیرون ملک چلے گئے ہیں۔ سینیٹر طلحہ محمود نے دعویٰ کیا کہ سید وامق بخاری 9 ارب روپے سے زائد لے کر بھاگ گئے۔ اس پر چیئرمین پی اے سی نے ان کی وطن واپسی کے لیے ان کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کے لیے انٹرپول سے رابطہ کرنے کو کہا اور ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی۔

ایس ایس جی سی ایل کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے 39 ارب روپے سے زائد کے گیس کے نقصانات کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیتے ہوئے سیکرٹری پٹرولیم ڈویژن نے کہا کہ گیس کے بے حساب نقصانات کے لحاظ سے نقصانات اب کم ہو گئے ہیں۔

ایم ڈی ایس ایس جی سی ایل نے کمیٹی کو بتایا کہ کراچی میں 7 لاکھ غیر قانونی گیس کنکشن ہیں اور اوگرا نے وہاں میٹر لگانے کی اجازت دے رکھی ہے۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ کراچی میں نقصانات 13 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ بلوچستان میں لائن لاسز زیادہ ہیں۔ چیئرمین پی اے سی نے ریمارکس دیئے کہ بلوچستان کے لوگوں کو رائلٹی ملتی ہے نہ گیس۔ جس صوبے سے گیس آتی ہے اس پر پہلا حق سیکرٹری پٹرولیم کا ہے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے سوال کیا کہ خیبرپختونخوا میں گیس کی لوڈشیڈنگ کیوں ہے، آئین کے مطابق جس صوبے کے پاس گیس ہے اس کی ضرورت پہلے پوری ہونی چاہیے۔ سیکرٹری انرجی ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ 100 فیصد گھرانوں کو گیس کنکشن دینے کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ صرف 27 فیصد گھرانوں کے پاس گیس پائپ لائنوں کے ذریعے گیس کنکشن ہے۔ سیکرٹری توانائی نے کمیٹی کو بتایا کہ کوئی نیا ڈیمانڈ نوٹس جاری نہیں کیا جا رہا ہے۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں