25

جسٹس عیسیٰ کے خلاف نظرثانی کی درخواست واپس لینے کے لیے وزیراعظم سے بات کروں گا۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ پاکستان بار کونسل سپریم کورٹ بلڈنگ اسلام آباد میں ڈائریکٹوریٹ آف لیگل ایجوکیشن کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں۔  تصویر: پی آئی ڈی
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ پاکستان بار کونسل سپریم کورٹ بلڈنگ اسلام آباد میں ڈائریکٹوریٹ آف لیگل ایجوکیشن کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں۔ تصویر: پی آئی ڈی

اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے جمعرات کو وعدہ کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر نظرثانی کی درخواست واپس لینے پر وزیر اعظم شہباز شریف سے بات کریں گے۔

یہاں پاکستان بار کونسل کے دفاتر میں قائم ڈائریکٹوریٹ آف لیگل ایجوکیشن کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کو کابینہ کے آئندہ اجلاس میں بھی اٹھائیں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سابق فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کو وطن واپس آکر قانون کا سامنا کرنا چاہیے، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ حکومت سابق صدر پرویز مشرف کی وطن واپسی میں سہولت فراہم کرے گی۔ تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ پرویز مشرف کو سزا سنائی گئی ہے اس لیے انہیں آکر قانون کا سامنا کرنا چاہیے۔

انہوں نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ سابق صدر کی سزا کے خلاف دائر کی گئی اپیل کو درست کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کو تعاون بڑھانے کی ہدایات دی ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بار ایسوسی ایشن نے ہمیشہ ملک میں جمہوریت کے فروغ کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ آمریت کے دور میں بار ایسوسی ایشنز کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کے ساتھ ساتھ گڈ گورننس کے قیام میں قانونی برادری کا کردار بہت اہم ہے۔ وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ لاء کالجز سے متعلق معلومات براہ راست ڈائریکٹوریٹ آف لیگل ایجوکیشن کے ساتھ ساتھ اس کی ویب سائٹ سے بھی لی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے گرانٹ ان ایڈ کے بدلے ڈائریکٹوریٹ کے لیے 4 کروڑ روپے اپنے صوابدیدی فنڈ سے دیے ہیں جبکہ 4 کروڑ روپے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کو بھی فراہم کیے جائیں گے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے قانونی برادری کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کرنے پر وزیر قانون کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے وفاقی وزیر قانون اور وزیر اعظم شہباز شریف سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف نظرثانی درخواست واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت وزارت قانون و انصاف کے لیے مستقل سیکرٹری کی تقرری کا معاملہ بھی دیکھے گی۔ قبل ازیں وفاقی وزیر قانون کو ڈائریکٹوریٹ آف لیگل ایجوکیشن کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں