14

رانا ثناء اللہ سماعت سے محروم فرد جرم 23 جولائی تک ملتوی

وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ۔  تصویر: دی نیوز/فائل
وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ۔ تصویر: دی نیوز/فائل

لاہور: وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے خلاف منشیات اسمگلنگ کیس میں سماعت اور فرد جرم عائد نہ ہونے کے باعث ہفتہ کو فرد جرم عائد نہ ہو سکی۔

وزیر داخلہ کو 15 کلو گرام ہیروئن سمگلنگ کیس کا سامنا ہے، جس میں سزائے موت یا عمر قید یا 14 سال تک قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ گزشتہ سماعت پر منشیات کے کنٹرول کے لیے خصوصی عدالت نے تین سال سے زیر التواء کیس میں ان کے اور دیگر کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کے لیے 25 جون کی تاریخ مقرر کی تھی۔

تاہم رانا ثناء اللہ ہفتے کو عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ ان کی جانب سے عدالت میں درخواست جمع کرائی گئی جس میں ان کی قومی اسمبلی میں مصروفیات کے باعث ذاتی طور پر حاضری سے ایک مرتبہ استثنیٰ کی درخواست کی گئی۔ عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 23 جولائی تک ملتوی کر دی۔

تاہم مقدمے میں نامزد دیگر ملزمان محمد اکرم، سبطین حیدر، عثمان احمد، عاصم رستم اور عمر فاروق عدالت میں پیش ہوئے اور اپنی حاضری لگا دی۔ عدالت نے کئی بار وزیر کے خلاف الزامات عائد کرنے کی تاریخ مقرر کی ہے لیکن اس نے کسی نہ کسی بہانے اسے ٹال دیا۔

رانا ثناء اللہ کو انسداد منشیات فورس (اے این ایف) نے 2019 میں گرفتار کیا تھا۔ اے این ایف نے ان کے قبضے سے 15 کلو گرام ہیروئن برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں