13

لاہور ہائیکورٹ نے پوچھا کہ کیا حمزہ کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا اطلاق ہو سکتا ہے؟

حمزہ شہباز۔  تصویر: دی نیوز/فائل
حمزہ شہباز۔ تصویر: دی نیوز/فائل

لاہور: حمزہ شہباز کے وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہونے پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، لاہور ہائی کورٹ نے بدھ کو ایک بار پھر کیس کی سماعت 30 جون تک ملتوی کر دی۔

جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے بدھ کو حمزہ کے بطور وزیراعلیٰ انتخاب کے خلاف پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کی الگ الگ درخواستوں کی سماعت دوبارہ شروع کی۔ بینچ کے رکن جسٹس طارق سلیم شیخ نے سماعت کے دوران کہا کہ عدالت آج (بدھ کو) کیس کو سمیٹ لے گی۔ تاہم سماعت ایک بار پھر ملتوی کر دی گئی جس سے حمزہ کی قسمت لٹک گئی۔

سماعت کے آغاز پر جسٹس شاہد جمیل نے ریمارکس دیئے کہ پہلے حمزہ شہباز کے وکیل کے دلائل سنیں گے۔ فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ حمزہ کے وکیل دلائل دیں گے اگر صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ – جس میں آئین کے آرٹیکل 63 (A) کی تشریح کا مطالبہ کیا گیا ہے – ان کا اطلاق ماضی کے واقعات پر ہوتا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے 17 مئی کو یہ فیصلہ سنایا کہ پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کے خلاف ڈالے جانے والے اختلافی ارکان پارلیمنٹ (ایم پیز) کے ووٹوں کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس جمیل کی ہدایت کے بعد حمزہ کے وکیل نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کا اطلاق ماضی کے واقعات پر نہیں ہوتا جب تک کہ سپریم کورٹ خود ایسا نہ کرے۔

وکیل نے کہا کہ ‘سچ یہ ہے کہ حمزہ کے بطور وزیراعلیٰ پنجاب انتخاب کو چیلنج نہیں کیا گیا بلکہ مختلف واقعات کو چیلنج کیا گیا تھا’۔ حمزہ کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے پر پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر روسٹرم پر آئے۔ اپنے دلائل میں بیرسٹر علی ظفر نے عدالت سے استدعا کی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر ماضی یا مستقبل کی طرف جانے کے بجائے عمل درآمد کیا جائے۔

جسٹس شاہد نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا عدالت حمزہ شہباز کے وزیراعلیٰ منتخب ہونے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے سکتی ہے؟ کیا یہ عدالت پریزائیڈنگ آفیسر کا کردار ادا کر سکتی ہے؟ جسٹس صداقت علی خان نے استفسار کیا۔

علی ظفر نے کہا کہ ’اگر منحرف قانون سازوں کے ووٹوں کو شمار نہیں کیا جاتا تو پریزائیڈنگ افسر کو اس نشست کے لیے دوبارہ الیکشن کرانے کی ہدایت کرنی پڑے گی‘۔ پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ دوبارہ الیکشن کی صورت میں حمزہ شہباز کی تقرری کا نوٹیفکیشن کالعدم ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالت صرف پریذائیڈنگ افسر کو بتا سکتی ہے کہ اس نے منحرف اراکین اسمبلی کے ووٹوں کی گنتی کرکے غلط کیا۔

قبل ازیں عدالت نے صدر مملکت عارف علوی کے وکیل ایڈووکیٹ احمد اویس کو روسٹرم پر بلایا اور سنگل بنچ کے صدر کے بارے میں دیئے گئے ریمارکس پر ان سے رائے طلب کی۔ اپنے دلائل دیتے ہوئے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ صدر کے بارے میں سنگل بنچ کے ریمارکس کو کالعدم قرار دیا جائے۔ اس پر جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ صدر کو سنے بغیر ریمارکس دیے گئے؟

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں