18

سرکاری عمارتوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے گا۔

اسلام آباد: سولر انرجی سے متعلق ٹاسک فورس نے ہفتے کے روز سرکاری عمارتوں کو جلد از جلد شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کے کنوینر شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ٹاسک فورس کے اجلاس میں ملک میں شمسی توانائی کی پیداوار بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور ٹاسک فورس کے دیگر ارکان نے شرکت کی۔

ایک بیان میں مریم اورنگزیب نے کہا کہ حکومت وزیراعظم شہباز شریف کے ویژن کے تحت گرین پاور تک عوام کی رسائی کے عمل کو آسان بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے صاف اور سرسبز پاکستان کے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے شمسی توانائی کے منصوبوں پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں سولر پلانٹس لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جہاں بجلی سبسڈی دی جا رہی ہے۔

وزیر نے کہا کہ اجلاس میں توانائی کی بچت اور سبز توانائی کو فروغ دینے کے لیے پالیسی بنانے پر بھی غور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام کو سرکاری عمارتوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے فزیبلٹی رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اجلاس میں چھوٹے صارفین کو سولر انرجی پر جانے کے لیے سبسڈی اور رعایتی قرضے فراہم کرنے کے منصوبے پر بھی غور کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال سولر سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 600 میگاواٹ تھی اور اس میں مزید اضافہ کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اجلاس میں کہا گیا کہ سولر پینلز کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ سرکاری اور نجی عمارتوں کو شمسی توانائی میں تبدیل کیا جا سکے اور لوگوں کو شمسی توانائی کی طرف راغب کیا جا سکے۔

وزیر نے کہا کہ شمسی پینل استعمال کرنے والے صارفین گرڈ سٹیشنوں کو اضافی بجلی بھی فروخت کر سکیں گے، جس سے ان کی آمدنی بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ چار سے پانچ ہزار میگاواٹ کے منصوبوں پر جلد کام شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم توانائی کے شعبے میں کسی کو اجارہ داری قائم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے بلکہ مسابقت کو فروغ دیں گے۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں