19

این ایس سی کا اجلاس کل طلب کیا گیا ہے۔

اسلام آباد: پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا ان کیمرہ اجلاس 5 جولائی (منگل) کو طلب کرلیا گیا ہے۔

اس حوالے سے خط قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے ارکان کو ارسال کر دیا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی کو موجودہ قومی سلامتی کی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی۔ جس میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف، دونوں ایوانوں کے سینئر پارلیمانی قائدین، وفاقی وزراء، سینئر سیاسی رہنما، صوبائی وزرائے اعلیٰ، آزاد جموں و کشمیر کے صدر و وزیراعظم اور گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ کمیٹی کا اجلاس

اجلاس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے سینئر اراکین، قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کے اراکین، وزارت دفاع، خارجہ امور، داخلہ، امور کشمیر، صحت، وفاقی سیکرٹریٹ نیشنل سیکیورٹی ڈویژن کے اراکین شریک ہوں گے۔دریں اثناء سابق وزیراعظم وزیر عمران خان، جو ان کی پارٹی کے چیئرمین بھی ہیں، کو کل (منگل) کو یہاں قومی اسمبلی ہال میں ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اہم اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا۔

عمران خان کمیٹی کے رکن نہیں ہیں اور انہوں نے اپنی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کا عہدہ قبول نہیں کیا ہے۔ ان کیمرہ اجلاس میں قومی سلامتی سے متعلق اہم امور بالخصوص افغان صورتحال اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

قومی اسمبلی کے سپیکر راجہ پرویز اشرف کی غیر موجودگی میں جو ملک سے دور ہوں گے، وزیر اعظم شہباز شریف اجلاس کی صدارت کریں گے اور اس میں سروسز چیفس اور دیگر متعلقہ اداروں کے سربراہان شرکت کریں گے۔

اس موقع پر پارلیمنٹ کے باہر اور اندر سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔ دونوں ایوانوں کے مجموعی طور پر 140 ارکان کو اجلاس میں مدعو کیا گیا ہے جن میں سیکیورٹی کمیٹی کے ارکان بھی شامل ہیں۔ قومی اسمبلی نے گزشتہ ماہ ایک قرارداد کے ذریعے اجلاس کے لیے احاطے کو استعمال کرنے کی اجازت دے دی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ باڈی کے ارکان کو اعلیٰ عسکری حکام اور ایجنسیاں ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات، اس کے نتائج اور افغانستان سے ملحقہ علاقوں میں ان کی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دیں گی۔ اس حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل بھی زیر بحث آئے گا۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے جو کہ پی پی پی کے چیئرمین بھی ہیں، نے ٹی ٹی پی سے نمٹنے اور تنظیم کے ساتھ کوئی معاہدہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا کہا۔ ملک اور اس کے گرد و نواح میں سیکیورٹی کے مسائل بھی زیر بحث آئیں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ بریفنگ میں سوال و جواب کا سیشن بھی ہوگا۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں