13

ایف او کی تردید سابق ایف ایم، پی ایم سے ‘سائپر’ چھپائی گئی تھی۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی عمارت۔  فائل فوٹو
اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی عمارت۔ فائل فوٹو

اسلام آباد: دفتر خارجہ نے منگل کے روز اس دعوے کو مسترد کردیا کہ واشنگٹن میں سفارت خانے سے موصول ہونے والی سائفر کمیونیکیشن وزیر خارجہ یا وزیراعظم سے ‘چھپائی گئی’ تھی اور اسے مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا۔ “ایسا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

دفتر خارجہ پیشہ ورانہ بنیادوں پر کام کرتا ہے اور اس کے کام پر شکوک و شبہات کا اظہار کرنا نقصان دہ ہوگا۔

ترجمان نے اپنے بیان میں پی ٹی آئی کا ذکر نہیں کیا، تاہم میڈیا کی جانب سے ان سے پارٹی کے ایک سینئر رکن کی جانب سے لگائے گئے الزام کے بارے میں پوچھا گیا۔ یہ عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل ہی تھے جنہوں نے منگل کو عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر کی طرف سے دفتر خارجہ کو بھیجے گئے سائفر کو طاقتور حلقوں نے سابق وزیراعظم سے چھپایا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی۔

تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ طاقتور حلقے کون تھے۔ اس وقت دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ معمول کے مطابق اس طرح کے حساس سائفرز کی ایک کاپی وزیر اعظم، سی او اے ایس اور آئی ایس آئی کے ڈی جی کو بھیجی جاتی ہے۔

اس سے قبل ایک پریس کانفرنس میں آئی ایس پی آر کے ڈی جی نے ایک سوال پر اتفاق کیا تھا اور ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘سائپرز دنیا بھر سے پاکستانی سفیروں کی جانب سے دفتر خارجہ کو بھیجی جانے والی ٹاپ سیکرٹ دستاویزات ہیں۔ ہمیں ان میں سے کچھ سائفرز ڈائریکٹوریٹ آف انٹر سروسز انٹیلی جنس میں بھی موصول ہوتے ہیں جو قومی سلامتی سے متعلق سمجھے جاتے ہیں۔

اس حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ سائفرز دفتر خارجہ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور صرف قومی سلامتی سے متعلق فوج کے ساتھ شیئر کیے جاتے ہیں۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں