8

سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی درخواست پر سماعت ملتوی کر دی۔

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے جمعرات کو سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے لیے حلقہ بندیوں کو چیلنج کرنے والی ایم کیو ایم پی کی درخواست پر سماعت 15 اگست تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں مزید التوا نہیں دیا جائے گا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔

ایم کیو ایم پی کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے موقف اختیار کیا کہ حلقوں میں آبادی کا تناسب برابر نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں ایم کیو ایم کامیاب ہوئی وہاں ایک یونین کونسل (یو سی) 90 ہزار افراد پر مشتمل تھی جب کہ جن علاقوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی وہاں کی یونین کونسل 40 ہزار افراد پر مشتمل تھی۔

اس پر پیپلز پارٹی کے وکیل خالد جاوید نے موقف اختیار کیا کہ اگر یہ مان لیا جائے تو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی حلقہ بندیاں ختم ہو جائیں گی کیونکہ قومی اسمبلی کے کچھ حلقے 3 اور کچھ 9 لاکھ آبادی پر مشتمل ہیں۔ .

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ڈی جی لاء الیکشن کمیشن سے پوچھا کہ کیا الیکشن کمیشن ان حلقوں کی تعداد سے مطمئن ہے؟ ڈی جی لا، ای سی پی نے اثبات میں جواب دیا اور کہا کہ یہ حلقہ بندیاں قانون کے مطابق کی گئی ہیں۔

عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ صوبائی حکومت کو حد بندی کو حتمی شکل دینے کا اختیار دیا گیا تھا جبکہ الیکشن کمیشن کو انتخابات کروانے تھے۔ دریں اثناء عدالت نے قرار دیا کہ فوری معاملے میں تمام فریقین کو اس تنبیہ کے ساتھ تفصیل سے سنا جائے گا کہ اس سلسلے میں مزید کوئی التوا نہیں دیا جائے گا کیونکہ بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ 28 اگست کو ہونا تھا۔ عدالت نے کیس کی سماعت 15 اگست تک ملتوی کر دی۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں