23

اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لیے مربوط پالیسی کے لیے ڈاکٹر پاشا

معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر حافظ اے پاشا۔  - فوٹو فائل
معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر حافظ اے پاشا۔ – فوٹو فائل

لاہور (پ ر) معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر حافظ اے پاشا نے کہا ہے کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے برآمدات کا فروغ، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے تناسب میں اضافہ، غیر ٹیکس سے محصولات کی وصولی اور خسارے میں جانے والے سرکاری اداروں سے دستبرداری ضروری ہے۔ .

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) میں خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر پاشا نے کہا کہ گزشتہ سال قومی خزانے کی تاریخ کا سب سے بڑا بوجھ 1800 ارب روپے کا اجتماعی طور پر سرکاری اداروں پر پڑا۔ پاور سیکٹر ایک بلیک ہول ہے جو معیشت کو تباہ کر رہا ہے جبکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا سالانہ نقصان 173 ارب روپے ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے تناسب کو بڑھانے کی اشد ضرورت ہے جو اس وقت دنیا میں سب سے کم ہے۔ ڈاکٹر پاشا نے بتایا کہ 22 فیصد زرعی زمین صرف ایک فیصد زمینداروں کے ہاتھ میں ہے۔ پچھلے سال ٹاپ 20 فیصد زمینداروں کی آمدنی 2800 ارب روپے تھی لیکن انہوں نے صرف 2 ارب روپے ٹیکس ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ انڈسٹری سے 80 فیصد ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جبکہ سروسز سیکٹر سے بھی ٹیکس وصولی بہت کم ہے۔ ڈاکٹر پاشا نے کہا کہ پاکستان وسائل سے مالا مال ملک ہے لیکن اس کی معاشی حالت ابتر ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ آئی ایم ایف سے رقم ملنے سے پہلے زرمبادلہ کے ذخائر 7 ارب ڈالر سے نیچے چلے جائیں گے، حالانکہ “محفوظ سطح 18 سے 19 ارب ڈالر ہے”۔

انہوں نے مزید کہا کہ جولائی میں سرکاری قرضہ پچاس کھرب روپے کے لگ بھگ تھا جبکہ بیرونی قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب 41 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ پانچ سال پہلے یہ قرضے 83 بلین ڈالر تھے جو آج بڑھ کر 130 بلین ڈالر ہو گئے ہیں۔ یہ تشویشناک بات ہے کہ مالی سال کے آغاز میں ہمارے پاس زرمبادلہ کے ذخائر نہیں ہیں۔

لاہور چیمبر کے صدر میاں نعمان کبیر نے تاجروں کو درپیش مسائل بشمول کمرشل بینکوں کے استحصال پر روشنی ڈالی کیونکہ وہ درآمدی کھیپ کی دستاویزات جاری کرنے کے لیے انٹربینک ڈالر کی شرح سے 10 سے 15 روپے تک کا مطالبہ کر رہے تھے۔ لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر میاں رحمان عزیز چن نے کہا کہ ماضی میں آنے والی حکومتیں ٹیکس کی بنیاد کو بڑھانے میں ناکام رہی ہیں جو کہ اب بھی 30 لاکھ کے قریب ٹیکس دہندگان ہیں، جس کے نتیجے میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب دنیا میں سب سے کم ہے۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں