22

وزیر پنجاب کی تشدد زدہ طالبہ کی عیادت

فیصل آباد: وزیر داخلہ پنجاب ہاشم ڈوگر نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے کیس میں مطلوب پی ایم ایل این کے 30 ارکان گرفتاری کے ڈر سے اسلام آباد سے واپس نہیں آرہے ہیں۔

تشدد کا نشانہ بننے والی میڈیکل کی طالبہ خدیجہ کے اہل خانہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ بھی ضمانت قبل از گرفتاری کے بغیر اسلام آباد سے باہر نہیں گئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جس دن وہ ضمانت قبل از گرفتاری کے باہر آئے گا، اسے گرفتار کر لیا جائے گا۔

پنجاب میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ہاشم ڈوگر نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ یہ لوگ سوائے سازش کے اور کچھ کرنا نہیں جانتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘قانون میں کوئی گنجائش نہیں ہے کہ وہ کسی دوسری سیاسی جماعت کو ووٹ دے، اس لیے مجھے پنجاب میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی’۔

انہوں نے کہا کہ 25 مئی کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے بعد قانونی کارروائی کی جائے گی جب کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر حکم امتناعی ختم کرانے کے لیے ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح عمران خان اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، رانا ثناء اللہ کو بھی مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

صوبائی وزیر نے خدیجہ کیس میں پولیس کی کارکردگی، تعلیمی اداروں میں منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی اور کیش وین سے لوٹی گئی 46 ملین روپے سے زائد کی برآمدگی اور 24 گھنٹے میں ملزمان کی گرفتاری کو سراہا۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں