17

عمران نے آرمی چیف کی تقرری کو متنازعہ بنایا، وزیر دفاع

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پیر کو کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نئے آرمی چیف کی تقرری کو متنازعہ بنا رہے ہیں۔

عمران خان کی جانب سے جنرل باجوہ کو نئی حکومت کے انتخاب تک توسیع دینے کی تجویز کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے خبردار کیا کہ سابق وزیر اعظم کو ان کے اوچھے عزائم کا ادراک نہیں ہونے دیا جائے گا۔

پیر کو یہاں جیو نیوز کے پروگرام ‘آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ’ میں شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے آرمی چیف کی تقرری پر بات کرنا وقت سے پہلے تھا۔ انہوں نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف (COAS) کے عہدے، ان کی تقرری اور مسلح افواج کے ادارے کو متنازعہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کو سیاست میں گھسیٹنا ادارے کی عزت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

خواجہ آصف نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ اقتدار کی مایوسی میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ باڑ کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک طرف وہ ان پر حملہ کر رہا ہے اور دوسری طرف کچھ اور تجویز کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی منظوری کے بعد قائم ہوئی ہے۔ لیکن اس کے بعد اس نے فورسز کو نشانہ بنانا شروع کر دیا اور انہیں نیوٹرل، میر جعفر اور میر صادق جیسے ناموں سے پکارا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت انہیں اس تقرری کو متنازعہ بنانے کی اجازت نہیں دے گی جو کہ ایک جمہوری حکومت کا آئینی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مخلوط حکومت آئینی عمل کے مطابق نئے آرمی چیف کا تقرر کرے گی کیونکہ یہ موجودہ وزیر اعظم کا اختیار ہے۔ وزیر دفاع نے الزام لگایا کہ عمران خان کا نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو پہلے سے طے شدہ تھا۔ انہوں نے میڈیا کو بھی خبردار کیا کہ وہ پی ٹی آئی چیئرمین کے ایسے کسی منصوبے کا حصہ نہ بنیں۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں