15

اے آر وائی کو پی ایس ایل کے نشریاتی حقوق کا ایوارڈ شفاف نہیں

لاہور ہائیکورٹ کے سامنے پی ٹی وی کا داخلہ: اے آر وائی کو 'پی ایس ایل براڈکاسٹ رائٹس' ایوارڈ شفاف نہیں'

لاہور: پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے وکیل نے بدھ کے روز لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) کے سامنے اعتراف کیا کہ اے آر وائی کو پی ایس ایل کے نشریاتی حقوق دینے کا عمل شفاف نہیں تھا۔ جسٹس عابد عزیز شیخ اور جسٹس عاصم حفیظ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف جیو سپر اور بلٹز کی اپیلوں کی سماعت کے لیے 4 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی۔ عدالت نے اے آر وائی کو بھی 4 اکتوبر کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست کی اپیلوں کے ساتھ سماعت کرنے کا فیصلہ کیا۔

پی ٹی وی کے وکیل نے عدالت کے روبرو کہا کہ سنگل بنچ کو مناسب مدد نہیں دی گئی، اور تسلیم کیا کہ نشریاتی حقوق کے لیے اے آر وائی اور پی ٹی آئی کا تعاون واقعی شفاف نہیں تھا۔

جسٹس عابد عزیز شیخ کے استفسار پر کہ کیا پی ٹی وی نے سنگل بنچ کے فیصلے کو چیلنج کیا، وکیل نے کہا کہ جب پی ٹی وی نے فیصلے کے بعد دستاویزات کا جائزہ لیا تو اپیل دائر کرنے میں دیر ہوچکی تھی۔

جیو سپر کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ اپیلوں کی سماعت کی تاریخ دی جائے کیونکہ ورلڈ کپ کے میچ 16 اکتوبر سے شروع ہونے والے ہیں، ایسا نہ ہو کہ لوگ میچز سے محروم نہ ہوں۔ جسٹس شیخ نے ہلکے پھلکے ریمارکس دیئے کہ پہلے ہی میچ کے بعد واضح ہو جائے گا کہ لوگ میچ دیکھنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

یاد رہے کہ پی ٹی وی نے پی ایس ایل کا ذکر کیے بغیر آئی سی سی کے نشریاتی حقوق کے لیے شراکت داری کا ٹینڈر جاری کیا تھا۔ اے آر وائی کنسورشیم کو ایک ایسے وقت میں آئی سی سی کے نشریاتی حقوق کا پارٹنر بنایا گیا تھا جب اس کے پاس نہ تو اسپورٹس چینل تھا اور نہ ہی اس کا لائسنس تھا۔ اُس وقت کھیلوں کا بھی کوئی وجود نہیں تھا۔ یہ سب کچھ پی ٹی وی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے علم میں نہیں ہوا۔ پی ٹی وی اسپورٹس نے اپنے ڈائریکٹرز کو مطلع نہیں کیا اور ٹین اسپورٹس کے ساتھ نشریات کی منظوری حاصل کی۔ بعد میں اے آر وائی کو خاموشی سے پارٹنر بنایا گیا۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں