25

سپریم کورٹ نے BZU VC کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے بدھ کے روز بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی (بی زیڈ یو) کے وائس چانسلر کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو یونیورسٹی سے الحاق شدہ لاء کالجز کے ساتھ ساتھ طلباء کے داخلوں سے متعلق ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ان کالجوں کو

جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے یونیورسٹی سے الحاق شدہ لاء کالجز سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے بی زیڈ یو کے وی سی کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کرتے ہوئے بتایا کہ تین سالوں میں اس کے حکم پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوا۔ جسٹس احسن نے استفسار کیا کہ لاء کالج کے طلبہ کا ریکارڈ ابھی تک لیگل ڈائریکٹوریٹ کو کیوں فراہم نہیں کیا گیا؟ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر ریکارڈ میں چھیڑ چھاڑ کی گئی تو سب کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جائے گا۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ جان بوجھ کر لیگل ڈائریکٹوریٹ کو متعلقہ ریکارڈ کی فراہمی میں تاخیر پر تلی ہوئی ہے۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے یہ بھی سوال کیا کہ تین سال میں عدالتی حکم پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوا۔ پاکستان بار کونسل کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ کو 32 لاء کالجز کا الحاق منسوخ کرنا تھا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ 2018 سے یونیورسٹی نے ابھی تک ایک بھی لاء کالج کا الحاق منسوخ نہیں کیا۔

تاہم بی زیڈ یو کے وکیل نے کہا کہ وہ پورا ریکارڈ لے کر آئے ہیں جو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں