17

عدالت نے سینیٹر، ڈی جی اسپورٹس بورڈ اور دیگر کے خلاف ریفرنسز نیب کو واپس کردیئے۔

اسلام آباد/لاہور: ایک احتساب عدالت (اے سی) نے بدھ کو پیپلز پارٹی کی سینیٹر روبینہ خالد اور دیگر کے خلاف لوک ورثہ فنڈز میں 30.13 ملین روپے کی مبینہ بدعنوانی سے متعلق ریفرنس قومی احتساب بیورو (نیب) کو واپس کردیا۔

AC-I کے جج محمد بشیر نے نیب ترمیمی ایکٹ 2022 کے تحت ملزمان کی درخواست پر فیصلہ سنایا، عدالت نے کہا کہ قانون میں تازہ ترامیم کے بعد یہ احتساب عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

عدالت نے بیورو سے کہا کہ مقدمہ متعلقہ فورم میں جمع کرایا جائے۔ نیب نے ریفرنس میں روبینہ خالد، لوک ورثہ کی سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر مظہر الاسلام، ڈاکٹر تابندہ ظفر اور محمد شفیع کو ملزم نامزد کیا تھا۔

نیب نے الزام لگایا کہ مظہر الاسلام نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور سینیٹر روبینہ خالد اور ڈاکٹر ظفر کے ساتھ مل کر کاسموس پروڈکشن کے معاہدوں میں غیر قانونی طور پر توسیع کی۔

مزید برآں، نیب نے کہا کہ سینیٹر روبینہ خالد اور ڈاکٹر ظفر نے نئے ٹینڈرز طلب کیے بغیر/بغیر کسی مقابلے کے معاہدے میں توسیع کر کے غیر قانونی فوائد حاصل کیے ہیں۔ اس میں مزید کہا گیا کہ اس سے قومی خزانے کو 30.13 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔

دریں اثناء بدھ کو ایک اور احتساب عدالت (اے سی) نے نیب قوانین میں ترامیم کے باعث سابق ڈی جی اسپورٹس بورڈ پنجاب عثمان انور کے خلاف پنجاب یوتھ فیسٹیول کرپشن ریفرنس نیب کو واپس بھیج دیا۔

عدالت نے ریفرنس واپس بیورو کو بھجوا دیا کیونکہ نیب قوانین میں ترامیم کے بعد 500 ملین روپے سے زائد کا کرپشن ریفرنس نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

نیب نے سابق ڈی جی سپورٹس بورڈ پنجاب عثمان انور کو پنجاب یوتھ فیسٹیول کے فنڈز میں خورد برد اور ٹھیکے دینے میں پی پی آر اے قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ عثمان انور کی گرفتاری پر نیب کی جانب سے شیئر کی گئی تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے 2011 اور 2012 میں پنجاب یوتھ فیسٹیول کا اہتمام کیا تھا، فیسٹیول کے دونوں دوروں میں کروڑوں روپے کا غبن کیا گیا تھا۔ بعد ازاں عثمان نے ضمانت حاصل کر لی تھی۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں