12

سیکیورٹی کے لیے ملک بھر میں فوج تعینات

فوٹو فائل
فوٹو فائل

اسلام آباد/لاہور: وفاقی حکومت نے حضرت امام حسین (ع) کے چہلم کے موقع پر سیکیورٹی کے لیے پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی کی منظوری دے دی۔

وزارت داخلہ کی سمری پر وفاقی حکومت کی منظوری سے فورسز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور چاروں صوبوں کے لیے پاک فوج کی خدمات کی منظوری دے دی۔

چہلم امام حسین (ع) کے موقع پر پاکستانی عوام کو پرامن ماحول فراہم کرنے کے لیے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان کی زیر صدارت وزارت داخلہ میں ہونے والے اجلاس میں عظیم الشان حکمت عملی کو حتمی شکل دی گئی۔ سیکیورٹی صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے وزارت داخلہ میں ایک مرکزی کنٹرول روم بھی قائم کیا جائے گا۔

وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ چہلم امام حسین (ع) کے موقع پر پاک فوج سول حکومت کی مدد کے لیے سیکیورٹی کے فرائض انجام دے گی۔ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پاک فوج کے ساتھ ساتھ رینجرز، ایف سی اور دیگر فورسز بھی سیکیورٹی خدمات فراہم کریں گی۔ وزیر نے کہا کہ پاکستانی فوج کے جوان پہلے ہی سیلاب زدگان کی مدد اور بحالی میں مصروف ہیں۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ فلڈ ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ پاک فوج بھی چہلم کی سیکیورٹی کے لیے اپنی خدمات فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ چہلم حضرت امام حسین علیہ السلام کے موقع پر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام قوتیں اور وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزارت داخلہ میں قائم مرکزی کنٹرول روم سے تمام جلوسوں اور سکیورٹی کے معاملات کی نگرانی کی جائے گی۔ چہلم کے جلوسوں، راستوں اور امام بارگاہوں کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ۔

دریں اثناء پنجاب حکومت نے حضرت امام حسین کے چہلم کے موقع پر کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے تین روز کے لیے ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی۔ اس کے علاوہ اس نے فرقہ وارانہ منافرت کو فروغ دینے، چہلم کے جلوسوں کے راستوں پر چھتوں پر کھڑے ہونے اور جلوسوں/مجالس کے حوالے سے اختراعات متعارف کرانے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔

دفعہ 144 کے تحت 16 ستمبر سے 18 ستمبر تک آتشیں اسلحے کی نمائش اور ہوائی فائرنگ پر بھی پابندی ہوگی۔ بزرگ شہریوں، خواتین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ڈبل سواری پر پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

ایڈیشنل چیف سیکرٹری (ہوم) کیپٹن ریٹائرڈ اسد اللہ خان کی جانب سے جاری کردہ ہینڈ آؤٹ کے مطابق یہ اقدامات عوامی امن کے تحفظ اور جان و مال کے تحفظ کے لیے کیے گئے تھے۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں