11

آئی ایچ سی نے وزارت، ایچ آر سی پی کو اڈیالہ جیل کا دورہ کرنے کی ہدایت کی۔

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے بدھ کے روز وزارت انسانی حقوق اور انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کو قیدی پر تشدد سے متعلق شکایت کیس میں اپنے نمائندوں کو اڈیالہ جیل بھیجنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے جیل انتظامیہ کو قیدی کے طبی معائنے اور رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے قیدی کے والدین کی جانب سے دائر کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وزارت انسانی حقوق نے جیل اصلاحات کے حوالے سے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے لیے کیا کیا؟ انہوں نے کہا کہ وزارت انسانی حقوق ملک بھر کی جیلوں سے رپورٹ لے سکتی ہے۔

چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جیلوں میں قیدیوں کی تعداد گنجائش سے زیادہ ہے لیکن کسی نے اس کی پرواہ نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ اس عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوا، انہوں نے مزید کہا کہ جیل میں قیدیوں کے بھی حقوق ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جیلوں میں قیدیوں کی آواز نہیں ہے۔

اڈیالہ جیل کے اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ قیدی کے خلاف چھ مقدمات ہیں۔ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ نے تاہم کہا کہ اب تک انہیں کسی بھی معاملے میں مجرم نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیر سماعت اور سزا یافتہ قیدیوں کو الگ الگ رکھا جاتا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قیدی کی والدہ کی جانب سے لگائے گئے تشدد کا الزام سنگین معاملہ ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ اگر کسی قیدی کا طرز عمل اچھا نہ ہو تب بھی اس پر تشدد نہیں کیا جا سکتا۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق قیدی بالکل ٹھیک ہے اور اس کے جسم کی کوئی ہڈی نہیں ٹوٹی۔ عدالت نے مذکورہ ہدایات کے ساتھ کیس کی سماعت (آج) جمعرات تک ملتوی کردی۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں