23

سعودی عرب اور چین 10 ارب ڈالر کی آئل ریفائنری کی مالی معاونت کریں گے۔

وزیر اعظم شہباز شریف (بائیں) اور سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان (ایم بی ایس) شاہی محل میں۔  اے پی پی
وزیر اعظم شہباز شریف (بائیں) اور سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان (ایم بی ایس) شاہی محل میں۔ اے پی پی

اسلام آباد: سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان (ایم بی ایس) رواں ماہ (نومبر) پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں جس دوران اسلام آباد کو ریاض سے 4.2 بلین ڈالر کا بیل آؤٹ پیکج ملنے کی امید ہے، سفارتی ذرائع نے پیر کو بتایا۔

سعودی رہنما کا یہ غیر معمولی دورہ 21 نومبر کو عارضی طور پر طے ہے۔ شہزادہ سلمان کی خصوصی سیکیورٹی تفصیلات کی حتمی منظوری کے لیے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے اس ہفتے کے آخر تک اسلام آباد پہنچنے کا امکان ہے۔

اس کے علاوہ سعودی عرب سے بھی پاکستان میں ٹھوس سرمایہ کاری کی توقع ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ایم بی ایس کے دورے کے دوران دستخط کے لیے پاکستان اور سعودی عرب کے متعدد معاہدوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ حکومت ایک ممکنہ معاہدے پر بھی اعتماد کر رہی ہے جس کے تحت گوادر میں جدید ترین ریفائنری کے قیام کے لیے سعودی عرب کی جانب سے مالی معاونت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

10 بلین ڈالر کی لاگت سے تعمیر کی جانے والی اس ریفائنری کے لیے مملکت اور چین مشترکہ مالی معاونت کریں گے۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر چینی کمپنیاں منصوبے کی تکمیل کے بعد ریفائنری کا آپریشن چلائیں گی۔ تاہم ذرائع نے مزید کہا کہ اب تک معاملات ٹھیک لگ رہے ہیں لیکن سیاسی شور و غل میں اضافہ ولی عہد کے سفر کے پروگرام کو متاثر کر سکتا ہے۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں