20

سینیٹ پینل نے نندی پور پراجیکٹ کا ریکارڈ طلب کر لیا۔

اسلام آباد: ایک پارلیمانی پینل نے منگل کو 425 میگاواٹ کے نندی پیور پاور پراجیکٹ کی لاگت میں اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے پاور ڈویژن کو اپنا ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جا سکے کہ اس کی لاگت پہلے 23 ارب روپے سے بڑھ کر 58 ارب روپے کیوں ہو گئی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی صدارت میں ہوا جس میں بتایا گیا کہ دو پاور پلانٹس نہ چلنے سے خزانے کو 42 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ کمیٹی نے افسوس کا اظہار کیا کہ جینکو کی پیداوار 7,000 میگاواٹ سے کم ہو کر 2,100 میگاواٹ رہ گئی۔

کمیٹی نے “پاکستان پینل کوڈ (ترمیمی) بل 2022” کو یہ کہتے ہوئے بھی موخر کر دیا کہ وہ اس پر صرف اسی صورت میں غور کریں گے جب وفاقی وزیر برائے بجلی خرم دستگیر اجلاس میں شریک ہوں گے۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ خرم دستگیر گزشتہ سات ماہ سے کمیٹی کے اجلاسوں سے مسلسل غیر حاضر تھے۔ کمیٹی کے اجلاس میں وزیر بجلی کی عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ وہ ٹیلی ویژن پر ٹاک شوز میں حصہ لے سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکے۔

مسلم لیگ کے رہنما امیر مقام کے پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کے دفتر میں بیٹھنے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کمیٹی کے چیئرمین نے پوچھا کہ وہ کس حیثیت سے دفتر میں بیٹھے ہیں؟ کے الیکٹرک کی جانب زیر التواء گردشی قرضے کی ادائیگی پر بحث کرتے ہوئے سینیٹر سیف اللہ نے کہا کہ اس وقت ملک میں پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 2400 ارب روپے ہے۔

پاور ڈویژن کے تحت کام کرنے والے باقی محکموں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی فہرست پر بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین نے مشاہدہ کیا کہ کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبران کی تقرری میرٹ سے ہٹ کر کی گئی۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ بورڈ آف ممبران کے سی وی ایک شخص نے تیار کیے ہیں۔ انہوں نے ڈسکوز اور جینکو بورڈز میں غیر متعلقہ شمولیت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “اگر ایسے لوگوں کو شامل کیا گیا تو گرڈ اسٹیشن تباہ ہو جائیں گے۔”

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں