19

عرب دنیا میں پہلی بار ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے لیکچرز

عرب دنیا میں پہلی بار ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے لیکچرز

دبئی: مسلمانوں اور یہودیوں نے دبئی کے کراس روڈ آف سولائزیشن میوزیم میں امن کی شمعیں روشن کیں اور یورپ میں ہولوکاسٹ میں بے دردی سے مارے جانے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

‘لیٹ دیر بی لائٹ’ کے عنوان سے تقریب کا اہتمام انٹرنیشنل مارچ آف دی لیونگ (MOTL) نے دبئی کے کراس روڈ آف سولائزیشن میوزیم کے تعاون سے کیا تھا۔ ہولوکاسٹ کے دوران موت کے دہانے سے واپس آنے والی حوا کوگلر اس تقریب کی مہمان خصوصی تھیں۔ عرب دنیا میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے ایک شخص نے مختلف مذاہب کے ماننے والوں سے براہ راست بات کی۔ اس تاریخی تقریب میں مسلمانوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔

91 سالہ ایوا کگلر نے کہا کہ ایک شخص (اڈولف ہٹلر) نے یورپ میں نفرت کے بیج بوئے اور پورے معاشرے کو آگ لگا دی، جس کی وجہ سے صرف مذہبی تعصب کی بنیاد پر لاکھوں لوگ مارے گئے۔

تقریب کے بعد دی نیوز سے بات کرتے ہوئے ایوا کگلر نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جس نے اپنی تخلیق کے دوران لاکھوں جانیں ضائع کیں جو کہ بہت تکلیف دہ ہے۔ اس نے کہا کہ وہ تقسیم کے غم اور درد کو محسوس کر سکتی ہیں کیونکہ اس کے والد اور دادا پر نازیوں نے مذہبی عقائد کی وجہ سے حملہ کیا تھا۔

“میں چاہتا ہوں کہ لوگ یہ سمجھیں کہ میرے خاندان کے ساتھ جو ہوا وہ ان کے ساتھ نہیں ہو سکتا۔ یہ اتنا آسان ہے، “انہوں نے کہا۔ ایوا کگلر نے اصرار کیا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت “اسلامو فوبیا” یا یہودیوں کے خلاف نفرت “سام دشمنی” کو بین المذاہب مکالمے کے ذریعے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’ہمیں عزت کے ساتھ ساتھ رہنا سیکھنا ہوگا اور ایک دوسرے کو مارنا بند کرنا ہوگا۔‘‘ اس سے پہلے، اس نے امارات میں یہودی اور مسلمان طلباء کے ایک کلاس روم سے خطاب کیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کی ملاقات اس کلاس روم میں ایک پاکستانی طالب علم سے بھی ہوئی۔

ایوا کگلر نے کہا کہ دبئی آکر ایک امید جاگ گئی ہے کہ دنیا میں محبت اور تعاون بھی بڑھ رہا ہے۔ تقریب کے اماراتی منتظم احمد المنصوری نے تقریب میں قرآن پاک کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام صرف محبت کا پیغام دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام یہ پیغام دیتا ہے کہ ’’جس نے ایک جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی‘‘۔ دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے احمد المنصوری نے کہا کہ اس تقریب کا مقصد اسلامو فوبیا اور دیگر مذاہب کے خلاف نفرت کا مقابلہ کرنے کے لیے بین المذاہب مکالمے کا آغاز کرنا تھا۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں