17

پی ٹی آئی رہنما پنڈی میں مری روڈ کھولنے پر مجبور

راولپنڈی: وزیراعلیٰ پنجاب کے سرکاری ترجمان فیاض الحسن چوہان نے جمعرات کو یہاں گیریژن سٹی کے عوام کے شدید ردعمل کا سامنا کرنے کے بعد مری روڈ کو دوبارہ کھول دیا۔

بند روڈ پر بزرگ شہریوں سمیت لوگوں کی بڑی تعداد نے پنجاب حکومت کے ترجمان کے خلاف شدید مزاحمت کا مظاہرہ کیا۔ پی ٹی آئی کے فیاض الحسن چوہان نے اپنے کارکنوں کے ہمراہ رحمان آباد سے فیض آباد تک مرکزی مری روڈ بلاک کر دی۔ بزرگ شہریوں سمیت مقامی لوگوں نے چوہان سے ملاقات کی اور سڑکوں کی بندش پر ان کی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ریاست مدینہ کی بات کر رہے ہیں لیکن اصول کے خلاف کام کر رہے ہیں اور ملک میں مسلسل بدامنی پھیلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے حامی عمران خان کی ہدایت پر سڑکیں بلاک کر رہے تھے۔

فیاض الحسن چوہان نے مظاہرین کو سڑک کھولنے کی ہدایت کی اور وہاں سے چلے گئے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہان نے کہا کہ انہوں نے احتجاج ختم نہیں کیا بلکہ صرف مرکزی شریان کو دوبارہ کھولا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ پرامن احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی اگلی ہدایت تک مظاہرے جاری رہیں گے۔

گیریژن سٹی کے مقامی لوگوں نے پی ٹی آئی کے حامیوں کے پرامن احتجاج کے بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ وہ حیران تھے کہ وہ کس قسم کے پرامن احتجاج کی بات کر رہے ہیں جب پی ٹی آئی کے حامی نہ صرف ٹائر جلا رہے تھے بلکہ سڑکوں پر گاڑی چلانے والوں پر پتھراؤ بھی کر رہے تھے۔

دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے مقامی انتظامیہ اور پنجاب پولیس کی جانب سے تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی پر شدید احتجاج کیا۔ مری روڈ اور راولپنڈی کی دیگر اہم شاہراہوں پر پانچویں روز بھی سڑکوں کی ناکہ بندی جاری ہے، شہر کی صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے اور مقامی پولیس خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔

موٹرسائیکل سواروں اور موٹر سائیکل سواروں کو اپنی منزلوں تک پہنچنے کے لیے متبادل راستے تلاش کرنے پڑتے ہیں کیونکہ مرکزی راستوں کو مٹھی بھر مظاہرین نے بلاک کر رکھا ہے جنہوں نے ان سڑکوں کے ساتھ اپنے کیمپ لگا رکھے ہیں۔ مقامی ٹرانسپورٹرز کی جانب سے پبلک ٹرانسپورٹ کی معطلی کے ساتھ ساتھ میٹرو بس سروس نے بھی عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

سابق وزیر اعظم عمران خان پر قاتلانہ حملے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں اور حامیوں کے جاری احتجاج کے باعث رحمان آباد سے فیض آباد جانے والی مرکزی مری روڈ کو بلاک کر دیا گیا۔ مظاہرین نے ٹائر جلا کر مری روڈ کو بلاک کر دیا۔

ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے جمعرات کو ایک بار پھر تمام سرکاری اور نجی اداروں کو بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ چاروں طرف امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے تین روز کے لیے بند کر دیے گئے۔

ایمبولینس سروس بھی معطل کر دی گئی اور مریضوں کو ہسپتال پہنچانے والی متعدد گاڑیاں ٹریفک جام میں پھنس گئیں۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے جمعرات کو شمس آباد مری روڈ پر ٹائروں کو آگ لگا کر حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں