15

دبئی کے تاجر کے انکشافات نے عمران خان کے لیے سوالات کھڑے کر دیئے۔

عمران خان۔  اے ایف پی
عمران خان۔ اے ایف پی

اسلام آباد: دبئی میں مقیم نارویجن پاکستانی کروڑ پتی عمر فاروق ظہور کا انٹرویو جیو نیوز اینکر شاہ زیب خانزادہ کی جانب سے توشہ خانہ کے تحائف کی خریداری سے متعلق تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے لیے کئی سوالات کھڑے کر دیے گئے ہیں۔

پہلا سوال یہ ہے کہ عمران نے بشریٰ بی بی کی سہیلی فرح گوگی کے ذریعے توشہ خانہ کا تحفہ 2,000,000 ڈالر میں کیوں فروخت کیا اور اس نے ہارڈ کیش میں ادائیگی پر اصرار کیوں کیا۔

دوسرا سوال پی ٹی آئی کے سینئر نائب صدر فواد چوہدری کی جانب سے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر یہ دعویٰ کرنے کے بعد سامنے آیا کہ عمران خان نے توشہ خانہ کے تحائف عمر فاروق کو فروخت نہیں کیے تھے۔ اگر ایسا ہے تو پھر عمر فاروق کو یہ تحائف کس نے بیچے؟

تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا پیسہ واپس پاکستان لایا گیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو بینکنگ لین دین کہاں ہے؟ اگر تحائف کسی اور کو فروخت کیے گئے ہیں تو پھر فروخت سے متعلق بینکنگ لین دین کہاں ہے؟

چوتھا سوال یہ ہے کہ قیمتی تحائف 280,000,000 روپے میں فروخت کرنے کے بعد 58,000,000 روپے کی فروخت کی آمدنی کیوں ظاہر کی گئی۔ کیا یہ ٹیکس بچانے کے لیے کیا گیا یا منی ٹریل؟

پانچواں سوال یہ ہے کہ اگر 2019 میں ان تحائف کی مالیت 1,700,000,000 روپے تھی تو پھر صرف 21,200,000 روپے دے کر ریاست کو 1,680,000,000 روپے کا بھاری نقصان کیوں پہنچایا گیا۔

کیا ان قیمتی تحائف کی پہلے جان بوجھ کر قیمت کم کی گئی اور پھر صرف 20 فیصد ادائیگی کے بعد خریدی گئی؟

یہ تمام سوالات شہزاد اکبر کو واٹس ایپ کیے گئے جن کے مطابق عمر فاروق ظہور نے انہیں فرح گوگی اور فواد چوہدری سے ملوایا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔

تاہم شہزاد اکبر کی ٹوئٹ نے عمر فاروق ظہور کے بارے میں بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ شہزاد نے ٹویٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی عمر سے ملے یا ان سے بات کی لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ توشہ خانہ کے تحائف عمر فاروق تک کیسے پہنچے۔ جیو کا پلیٹ فارم عمران خان، شہزاد اکبر اور فرح گوگی کو اپنے موقف کے دفاع کے لیے دستیاب ہے۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں