12

IHC نے شعیب شیخ کو عدالتی سماعتوں سے دور رہنے کی نصیحت کی۔

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس کی سماعت میں شعیب شیخ کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں کیس کی ہر سماعت پر پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے شعیب شیخ اور دیگر کی سزا کے خلاف درخواست اور ایف آئی اے کی جانب سے شعیب شیخ و دیگر کی سزا معطلی واپس لینے کی درخواست پر سماعت کی۔

ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم دو سماعتوں پر نہیں آیا بلکہ وارنٹ جاری ہونے پر ہی آیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ فوجداری معاملہ ہے۔ اپیل گزشتہ چار پانچ سال سے زیر التوا ہے۔ وہ عدالت کے ساتھ چھپ چھپا کر کھیل رہا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کیا ہم اس کی ضمانت منسوخ کر کے اسے جیل بھیج دیں اور کیس کو 2031 میں سماعت کے لیے مقرر کر دیں۔ وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت سے استدعا کی کہ آئندہ سماعت سے شعیب شیخ کو حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔

ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ انہیں 05 جولائی 2018 کو عدالت نے سزا سنائی تھی اور جب ان کی درخواست ضمانت خارج ہو گئی تھی تو وہ عدالت سے فرار ہو گئے تھے۔ انہوں نے 28 ستمبر 2018 کو سرنڈر کیا، 23 اکتوبر 2018 کو سزا معطل کی گئی۔ فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ مریم نواز کیس میں لکھا تھا کہ زیر التوا مقدمات عدالتی نظام پر دھبہ ہیں۔ عدالت نے شعیب شیخ کو ہر سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں