12

سپریم کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے رپورٹ طلب کرلی

سپریم کورٹ کی عمارت۔  ایس سی کی ویب سائٹ
سپریم کورٹ کی عمارت۔ ایس سی کی ویب سائٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت کے ذریعے تقرریوں اور تبادلوں سے متعلق جامع رپورٹ طلب کرلی۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عائشہ اے ملک پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پنجاب پولیس میں اہلکاروں کی تقرریوں اور تبادلوں میں سیاسی مداخلت سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

عدالت نے درخواست گزار کی درخواست پر معاملے کا دائرہ وفاق اور دیگر صوبوں تک پھیلاتے ہوئے محکمہ پولیس میں تقرریوں اور تبادلوں کے حوالے سے سیاسی مداخلت پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

عدالت نے محکمہ پولیس میں گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران ہونے والی تقرریوں اور تبادلوں کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومت کو دو ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ صوبہ پنجاب میں تقرریاں اور تبادلے سیاسی مداخلت کی بنیاد پر کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ڈی پی او لیہ کو بھی سیاسی مداخلت کے ذریعے بنایا گیا جس پر تنقید کی گئی، انہوں نے مزید کہا کہ جب یہ معاملہ میڈیا میں اجاگر ہوا تو مذکورہ خاتون افسر کو چارج چھوڑنا پڑا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ پولیس میں مسلسل تعیناتیاں اور تبادلے پولیس کمانڈ کے ساتھ ساتھ محنتی افسران کی کارکردگی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کی اوسط مدت پانچ ماہ ہے۔ گزشتہ چار سالوں میں پنجاب میں تقریباً 268 ڈی پی اوز کے تبادلے کیے گئے، درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ صوبہ پنجاب میں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) کی اوسط مدت 6 ماہ ہے جب کہ قانونی طور پر یہ عہدہ تین ماہ تک جاری رہنا چاہیے۔ سال

جسٹس عائشہ اے ملک نے درخواست گزار کے وکیل سے پوچھا کہ آپ کو یہ تفصیلات کہاں سے ملی؟ وکیل نے جواب دیا کہ انہوں نے سی پی آفس سے تفصیلات حاصل کیں۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سابق آئی جی پی اسلام آباد پڑھے لکھے اور مہذب افسر تھے جنہوں نے سندھ ہاؤس پر حملے کے معاملے کو پیشہ ورانہ انداز میں نمٹا، تاہم ان کا تبادلہ بھی کر دیا گیا۔

دریں اثنا، عدالت نے محکمہ پولیس میں تقرریوں اور تبادلوں سے متعلق وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے تفصیلی ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں