12

وزارت داخلہ کو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر خودکش حملے کا خدشہ

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان۔  ٹویٹر
پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان۔ ٹویٹر

اسلام آباد: وزارت داخلہ نے بدھ کو پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کی کہ وہ عمران خان کی جان کو لاحق خطرات اور ملک میں سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اپنے عوامی اجتماعات اور لانگ مارچ کو ملتوی کر دیں۔

پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والے ریاست مخالف عناصر کی جانب سے عمران خان کی زندگی کے لیے معتبر انٹیلی جنس ذرائع سے پیدا ہونے والے تھریٹ الرٹس شیئر کر رہی ہے۔

خط میں وزیر آباد میں مسلح حملہ آور کے عمران خان پر حالیہ حملے کا بھی ذکر کیا گیا۔ خط میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت نے عمران خان کو بلٹ پروف گاڑی فراہم کی تھی اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں قیام کے دوران پولیس اور سول آرمڈ فورسز کو تعینات کیا تھا۔

خط میں کہا گیا کہ توقع ہے کہ پنجاب حکومت نہ صرف پی ٹی آئی سربراہ بلکہ مارچ کے شرکاء کے لیے بھی سیکیورٹی انتظامات کے لیے تمام تر اقدامات کرے گی۔

اس میں کہا گیا ہے کہ “القاعدہ، داعش، ٹی ٹی پی اور ٹی ایل پی کے بنیاد پرست نوجوان جیسے ریاست مخالف عناصر خودکش حملوں اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات کے ذریعے ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لیے عوامی اجتماعات جیسے نرم اہداف کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔”

اس میں مزید بتایا گیا کہ وزارت داخلہ نے باضابطہ طور پر متعلقہ حلقوں کو عمران خان اور عوام کی جان کو لاحق خطرات سے آگاہ کر دیا ہے۔

دریں اثنا، وزارت داخلہ نے صوبوں کو لکھے گئے خط میں عمران خان کے لانگ مارچ کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔ یہ خط وزارت کو موصول ہونے والی انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر لکھا گیا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ بڑے پیمانے پر بم دھماکے یا آئی ای ڈی حملے کا امکان ہے۔

اس نے تمام صوبوں کو مارچ کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کا مشورہ دیا۔

خط پنجاب، خیبرپختونخوا، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان کی وزرات داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد اور پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر کو بھیجا گیا ہے۔

ڈی سی راولپنڈی کیپٹن (ر) شعیب نے بدھ کے روز پی ٹی آئی رہنما اسد عمر کو مشورہ دیا کہ وہ اپنا لانگ مارچ حساس تنصیبات سے دور کریں۔

ذرائع نے جیو نیوز کو بتایا کہ ایک ملاقات کے دوران عمر نے اہلکار کو یقین دلایا کہ وہ اس معاملے پر پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان سے بات کریں گے۔

تاہم ڈی سی راولپنڈی نے تصدیق کی کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے لیے متبادل جگہ کے حوالے سے ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج اور دھرنے کے لیے ابھی تک کوئی اجازت نہیں دی گئی، انہوں نے مزید کہا کہ اجازت نامے میں جگہ کا ذکر کیا جائے گا۔

عہدیدار نے انکشاف کیا کہ غالباً پی ٹی آئی کو علامہ اقبال پارک کے قریب احتجاج کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے بدھ کو کہا کہ ابھی تک دھرنے کی جگہ طے نہیں ہوئی۔

26 نومبر کو پارٹی کے لانگ مارچ کے دوبارہ شروع ہونے کے حوالے سے سینٹرل پولیس آفیسر کے دفتر میں ہونے والی میٹنگ کے بعد اسد عمر نے کہا کہ انتظامیہ کے ساتھ ایک اور میٹنگ کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اجتماع کا مقام مری روڈ ہو گا تاہم دھرنے کے مقام کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

انسپکٹر جنرل اسلام آباد کی زیر صدارت پولیس افسران کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ فیض آباد 26 نومبر کو مکمل طور پر بند رہے گا – جب پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان لانگ مارچ کی قیادت کریں گے۔

متبادل ٹریفک پلان بھی تیار کر لیا گیا ہے جبکہ فیصلہ کیا گیا کہ اندرون شہر ٹریفک متاثر نہیں ہو گی۔

علاوہ ازیں فیض آباد میں بس اسٹینڈ اور مارکیٹیں بھی بند رہیں گی جبکہ ٹریفک کو آئی جے پی روڈ کی طرف موڑ دیا جائے گا۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ فیض آباد میں پولیس، رینجرز اور ایف سی کے اہلکار تعینات کیے جائیں گے جبکہ ایف سی کے مزید 1500 اہلکار بلائے جائیں گے۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں