14

’عمران سے مشاورت کی ضرورت نہیں‘

(ایل ٹو آر) صدر عارف علوی اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان۔  - فیس بک/فائل
(ایل ٹو آر) صدر عارف علوی اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان۔ – فیس بک/فائل

لاہور: بالآخر مثبت نتائج کے مختلف تجزیوں کے ساتھ سینئر صحافیوں اور اینکر پرسنز نے جمعرات کو چیفس کی تقرری کے معاملے کا احاطہ کیا۔

جیو نیوز کے اینکر شاہ زیب خانزادہ نے کہا کہ صدر عارف علوی نے فوجی تقرریوں کے معاملے پر عمران خان سے مشاورت کر کے اپنی پوزیشن خراب کر دی، ثابت کر دیا کہ وہ پی ٹی آئی کی نمائندگی کرتے ہیں۔

شاہ زیب نے عمران خان کو مشورہ دیا کہ جب اسٹیبلشمنٹ نے سیاست سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے تو مدد کے لیے فون کرنا بند کردیں۔

اینکر کا کہنا تھا کہ جس طریقے سے عمران خان کا قد پوری سیاسی قیادت کو بدنام کر کے اونچا کیا گیا ہے اسے ترک کر دیا جائے تو ملک آگے بڑھے گا۔

انہوں نے کہا کہ سینئر صحافی انصار عباسی نے انہیں پہلے ہی مطلع کیا تھا کہ دوپہر کے وقت صدر مملکت لاہور جائیں گے جب انہیں تقرریوں کی سمری ملے گی، جبکہ عمران خان نے تصدیق کی ہے کہ وہ (علوی) پی ٹی آئی کے صدر ہیں اس لیے ان سے ضرور مشاورت کریں گے۔

انصار عباسی نے کہا کہ عمران خان نے تقرری کے معاملے سے اس طرح نہیں کھیلا جس طرح انہوں نے ملکی معیشت کے ساتھ کھیلا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے تقرری کو ایشو نہ بنا کر نئے آرمی چیف کو اشارہ دیا ہے کہ وہ ان کے خلاف نہیں ہیں۔

کیپیٹل ٹاک کے میزبان حامد میر نے کہا کہ عمران خان نے تصدیق کی کہ اگر وزیراعظم آرمی چیف کی تقرری پر مشاورت کے لیے لندن جا سکتے ہیں تو ان کی پارٹی کے صدر (علوی) بھی لاہور جا سکتے ہیں۔

اینکر پرسن سلیم صافی نے کہا کہ صدر علوی کی عمران خان سے مشاورت غیر ضروری تھی۔

انہوں نے کہا کہ تقرری کے فیصلے سے تمام سازشی تھیوریاں دم توڑ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کو سمجھداری سے معمول پر لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان سمیت تمام سیاستدان اور دیگر اسٹیک ہولڈرز غیر متوقع ہیں۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں